خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 359 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 359

خطبات ناصر جلد دہم ۳۵۹ خطبہ نکاح ۲۷ را پریل ۱۹۶۷ء خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ خطبہ نکاح فرموده ۲۷ ا پریل ۱۹۶۷ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز عصر مندرجہ ذیل دو نکاحوں کا اعلان فرمایا۔۱۔عزیزہ نعیمہ بیگم صاحبہ بنت مکرم چوہدری عبد الحمید صاحب درویش قادیان ہمراہ مکرم چوہدری عبدالرحمان صاحب پسر مکرم چوہدری محمد شریف صاحب کوٹ نیناں ضلع سیالکوٹ بعوض مبلغ تین ہزار روپیہ مہر۔۲۔عزیزہ منیره کشور صاحبہ بنت مکرم قاضی حسن محمد صاحب دار الرحمت وسطی ربوہ ہمراہ مکرم چوہدری رحمت اللہ خاں صاحب پسر مکرم چوہدری عبدالرحمان خاں صاحب عزیز آباد کراچی بعوض مبلغ تین ہزار روپیہ مہر۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ نے جہاں خیر امت سے بہت سی نعمتوں کے وعدے کئے ہیں وہاں اسے بہت سی ذمہ داریوں کا اہل قرار دیتے ہوئے دو اہم ذمہ داریاں اس پر ڈالی ہیں ان میں سے ایک اہم ذمہ داری یہ ہے کہ خَیرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِاَهْلِه خاوند پر بہت بھاری ذمہ داری اس بات کی ہے کہ وہ اپنی بیوی سے حسن سلوک کرے اور بیوی سے حسن سلوک کے اندر ہی اس کے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک بھی آجاتا ہے۔پس فرمایا کہ تم افراد خیر امت اسی صورت میں ہو سکتے ہو جب علاوہ اور بہت سی ذمہ داریوں کے تم اس ذمہ داری کو بھی نباہنے والے بنو کہ تم اپنے اہل کے لئے