خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 275
خطبات ناصر جلد دہم ۲۷۵ خطبہ نکاح ۱۷ را پریل ۱۹۶۶ ء خوشی کی یہ تقریب میری ذاتی خوشی بھی ہے خطبہ نکاح فرموده ۱۷ را پریل ۱۹۶۶ ء بمقام ربوہ مورخہ ۱۷ ۱۷ پریل کو محترم نیک محمد خان صاحب غزنوی کی دختر رضیہ غزنوی صاحبہ ایم۔اے بی۔ایڈ لیکچر ارگورنمنٹ کالج فار ویمن جہلم کی تقریب رخصتانہ عمل میں آئی جس میں متعدد دیگر احباب و افراد خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علاوہ سید نا حضرت خلیفۃ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بھی از راہ شفقت شرکت فرمائی۔اس تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا جو کہ رفیق احمد جاوید متعلم جامعہ احمد یہ ربوہ نے کی۔بعد ازاں حضور انور نے اس رشتہ کے بابرکت ہونے کے لئے اجتماعی دعا فرمائی۔محترم رضیه غزنوی صاحبہ کا نکاح اسی روز بعد از نماز ظہر سید ناخلیفة المسح الثالث ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز نے مسجد مبارک میں مکرم کیپٹن نصیر احمد صاحب ابن محترم چوہدری غلام حسین صاحب آف ڈنڈ پور تحصیل ڈسکہ ضلع سیالکوٹ سے بعوض مبلغ آٹھ ہزار روپیہ مہر پڑھا تھا۔خطبہ نکاح میں حضور نے محترم نیک محمد خان صاحب غزنی کے خاندان سے اپنے ذاتی گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ خان صاحب موصوف افغانستان کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔انہوں نے محض احمدیت کی خاطر اپنے وطن سے ہجرت کر کے قادیان میں رہائش اختیار کی اور خدمت دین میں حصہ لیا ان کی اہلیہ صاحبہ کو بھی ایک عرصہ تک حضرت اماں جان کی خدمت