خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 259
خطبات ناصر جلد دہم ۲۵۹ خطبہ نکاح ۱۸ / فروری ۱۹۶۶ء تربیت اولاد بڑا نازک مسئلہ ہے خطبہ نکاح فرموده ۱۸ / فروری ۱۹۶۶ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضورانور نے بعد نماز عصر مکرمہ رشیدہ اختر صاحبہ بنت چوہدری شریف احمد صاحب انجینئر ربوہ کے نکاح کا اعلان ہمراہ چوہدری منیر احمد صاحب عابدا بن مکرم ماسٹر برکت علی صاحب سندھ یو نیورسٹی جام شور و حیدر آباد بعوض مبلغ چھ ہزار روپیہ فرمایا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔نکاح کے رشتہ سے انسان پر بعض نئی ذمہ داریوں کا بوجھ پڑتا ہے۔جن میں سے سب سے اہم ذمہ داری تربیت اولاد ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ مغلوب الغضب ، سبک سر اور طائش العقل انسان تربیت اولاد کا متکفل نہیں ہوسکتا۔صحیح تربیت اولاد کے لئے حد درجہ کے تحمل، بردباری ، صبر اور ایثار کی ضرورت ہوتی ہے۔اسلام نے بڑی وضاحت کے ساتھ ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ بچہ کی تربیت کا زمانہ اس کی پیدائش کے پہلے دن سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔بعض مائیں اپنے بچوں کو چلہ سے ہی ایسی عادتیں ڈال دیتی ہیں کہ وہ اپنے لاشعوری کے زمانہ میں بھی اپنی والدہ اور والد کو تنگ کر رہے ہوتے ہیں پھر ہمارے ہاں یہ رواج ہے کہ بچوں کو زیادہ تر گودی میں اٹھائے رکھتے ہیں اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ماں باہر جاتی ہے تو آٹھ دس