خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page xii of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page xii

خطبات ناصر جلد دہم X فہرست خطبات عید الاضحیہ نمبر شمار 1 خطبات عید الاضحیہ عنوان خطبه فرموده صفحه حضرت ابراہیم علیہ السلام نے وقف اور وفاداری کی زندہ مثال قائم کی ہے ۱/۲ پریل ۱۹۶۶ء حضرت ابراہیم اور ان کی نسل نے خاندانی وقف کی عظیم قربانی پیش کی ۲۲ مارچ ۱۹۶۷ء یہ عید قربانیوں کے تین عظیم الشان نمونوں کی یاد دلاتی ہے ۲۷ رفروری ۱۹۶۹ء 119 ۱۲۵ ۱۳۱ ۱۴۱ ۴ انسان اپنی خواہشات اور مرضیوں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی رضا اختیار کرے ۱۷ فروری ۱۹۷۰ء خدا کرے وحدت اسلامی کی مہم میں ہماری کوشش بار آور ہو ۲۷ جنوری ۱۹۷۲ء ۱۴۷ ۶ > 11 ۱۲ ۱۳ دنیا میں ایک ہی بنیادی حقیقت ہے کہ اسلام ساری دنیا پر غالب آئے گا ۱۶ جنوری ۱۹۷۳ء عید الاضحیہ خدا کے حضور قربانیاں پیش کرنے کی یاد تازہ کرتی ہے ۵/جنوری ۱۹۷۴ء قدم بقدم آگے بڑھنا اور نئی منزل پر پہنچنا ہمارے لئے عید ہے ۲۵/ دسمبر ۱۹۷۴ء حضرت ابراہیم اور آپ کی نسلوں نے محمدصلی اللہ علیہ سلم کے لئے عظیم قربانیاں دیں ۱۴؍ دسمبر ۱۹۷۵ء امت مسلمہ بیت اللہ کے مقاصد کو پورا کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہے ۲ دسمبر ۱۹۷۶ء خدا تعالیٰ کی راہ میں زندگی گزار نا ذبح عظیم ہے ۲۲ نومبر ۱۹۷۷ء فریضہ حج ایسی قربانی ہے جو انتہائی ذاتی محبت کی متقاضی ہے ۱۲ نومبر ۱۹۷۸ء خانہ کعبہ اور حج سے وابستہ یاد کا تعلق محبت اور عشق سے ہے یکم نومبر ۱۹۷۹ء ۱۹ اکتوبر ۱۹۸۰ء ۱۴ مومن کی حقیقی خوشی اللہ کی رضا حاصل کرنے میں ہے یہ عید اس عظیم قربانی کی یاد میں مناتے ہیں جو محمد کے وجود میں عروج کو پہنچی ۹ اکتو برا ۱۹۸ء ۱۶۷ ۱۷۵ ۱۷۹ ۱۸۹ ۱۹۷ ۲۰۱ ۲۰۵ ۲۱۱ ۲۱۷ ۲۲۱ ( نوٹ از ناشر ) ۱۰ مارچ ۱۹۶۸ ء بوجہ علالت خطبہ عیدالاضحیہ ارشاد نہیں فرمایا۔(روز نامه الفضل ربوه ۱۳ مارچ ۱۹۶۸ صفحه ۱) ۷ فروری ۱۹۷۱ ء بوجہ علالت خطبہ عیدالاضحیہ ارشاد نہیں فرمایا۔( روزنامه الفضل ربوه ۱۰ فروری ۱۹۷۱ صفحه ۱)