خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 285
خطبات مسرور جلد نهم 285 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جون 2011ء بھی کہا کہ لگتا ہے آپ کو بھوک لگی ہے چلیں آپ کو کھانا کھلاؤں۔تو یہ اُن کی تیسری خواب تھی۔بہر حال انہوں نے بیعت کی۔اسی طرح سیریا کے یسین محمد شریف صاحب ہیں۔وہ مجھے لکھتے ہیں کہ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے بیعت کے بعد مجھے فضلوں اور برکات سے نوازا ہے۔میں اسلام اور مسلمانوں کی حالت پر غمناک تھا اور قریب تھا کہ اس غم میں ہلاک ہو جاتا۔میں نے کئی فرقوں اور مولویوں کی پیروی کی۔آخر پر جس شخص کی مرافقت اختیار کی، اُس نے مجھے بتایا کہ وہ ایک اور بڑے مولوی کا شاگرد ہے جو حلب کے ایک قطب کا گدی نشین ہے۔پھر اس شخص نے مہدی ہونے کا دعوی کر دیا جس کو میں نے واضح طور پر حق سے دور پایا اور اس کے منہ پر کہہ دیا کہ تم جھوٹ بول رہے ہو۔بعد میں یہ شخص اپنی بیوی کے ساتھ ایک حادثے میں ہلاک ہو گیا۔97ء میں کہتے ہیں میں نے دش خریدی، مسجد کی امامت چھوڑ کر گھر میں بیٹھ گیا۔میرا اعتقاد تھا کہ میں حق پر ہوں، لیکن اسلام کی حالت زار کی وجہ سے تمنا کر تا تھا کہ یہ فانی زندگی جلد ختم ہو اور اُخروی اور ابدی زندگی کا آغاز ہو۔دس سال کی گوشہ نشینی اور غم کی کیفیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے آپکی طرف رہنمائی فرمائی، جس سے میرے دل کو سکون اور راحت مل گئی۔اب جون میں اپنی والدہ اور بیوی کے ہمراہ عمرہ کرنے گیا تو متعد د عمرے کئے جن میں سے پہلا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے تھا۔اس کے بعد تمام خلفاء کی طرف سے عمرے ادا کئے۔دعا ہے کہ اللہ قبول فرمائے۔پھر یہ لکھتے ہیں کہ میں نے بیعت کرنے سے قبل چار احمدی احباب کو خواب میں دیکھا اور انہیں کہا کہ تم بڑے مرتبے والے لوگ ہو اور تم جیسا کوئی نہیں ہے۔اُن میں سے ایک نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔میں نے اس سے پوچھا کہ خدا کی قسم کھا کر بتاؤ کہ کیا تم خدا اور اُس کے رسول کی سنت پر قائم ہو ؟ اور اسلام کی حقیقت کو جانتے ہو ؟ چنانچہ اس نے اس کو اتنی مرتبہ جوش سے دہرایا کہ مجھے اُس کی گردن کی رگیں نظر آنے لگیں۔اس پر میں نے اُس سے کہا کہ آج سے میں بھی احمدی ہوں۔پھر وہ مجھے لکھ رہے ہیں کہ اس کے بعد میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ آتے ہیں اور جیسے جلدی میں ہیں، چنانچہ آپ ہماری طرف دیکھتے ہوئے مشرق کی جانب چلے جاتے ہیں۔پھر کہتے ہیں بیعت کے بعد میں نے ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ عالم برزخ میں ہوں وہاں پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھتا ہوں کہ اتنے میں ایک شخص کہتا ہے کہ اب ٹیلی فون مرزا کے پاس ہے، یعنی جس نے بھی اس ٹیلی فون پر بات کرنی ہے وہ مرزا صاحب کے ذریعے سے کر سکتا ہے۔بین کے پوبے (Pobe) شہر کے ایک احمد کی چندوں کی ادائیگی میں سست تھے باوجود اس کے کہ مالی کشائش تھی۔وقتا فوقتا تو جہ دلائی جاتی تھی، نصیحت کی جاتی تھی لیکن اُن پر اثر نہیں ہو تا تھا۔مربی صاحب کہتے ہیں کہ آخری ہتھیار دعا ہی کا تھا۔تو وہ ایسا کار گر ہوا کہ کچھ عرصہ قبل وہی صاحب آئے اور کہنے لگے کہ خواب میں اُنہوں نے مجھے دیکھا کہ میں اُن کے پاس گیا ہوں اور اُن سے کہہ رہا ہوں کہ اپنے چندوں کے حسابات کلیئر کرو۔تم سمجھتے ہو کہ یہ بہت زیادہ ہیں مگر یہ زیادہ نہیں ہیں۔کہتے ہیں انہوں نے خواب بیان کرنے کے بعد اپنے تمام حسابات آ کے صاف کر دیئے۔پھر الجزائر کے ایک شریفی عبدالمومن صاحب ہیں۔کہتے ہیں کہ چھ ماہ قبل جماعت سے تعارف حاصل