خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 282 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 282

خطبات مسرور جلد نهم 282 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جون 2011ء مجھے کہتے ہیں کہ تم ہمارے آدمی ہو لہذا تمہیں بیعت کر لینی چاہئے۔اس پر مجھے انہوں نے خط لکھا تھا کہ میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنا چاہتا ہوں اسے قبول کریں۔مصر کے ایک محمد احمد صاحب ہیں، کہتے ہیں کہ بیعت سے پہلے میں اندھیروں میں بھٹک رہا تھا کیونکہ یہ نام نہاد علماء ایسے فتوے جاری کرتے ہیں جنہیں عقل ماننے کے لئے تیار نہیں۔باوجودیکہ یہ سب لوگ معترف ہیں کہ کوئی مصلح آنا چاہئے اور دعائیں بھی کرتے ہیں لیکن مسلمانوں کی حالت ابتر ہی ہوتی جاتی ہے۔دوسرے مسلمانوں کی طرح میں بھی مختلف وساوس اور شکوک میں گرفتار تھا کہ میں نماز کیوں پڑھتا ہوں۔کیوں مسلمان ہوں؟ اس کائنات کا خالق ہے کہ نہیں ؟ مسلمانوں کا اتحاد کیسے ہو گا؟ ان سب سوالوں کا کوئی شافی جواب مجھے کہیں نہیں ملتا تھا۔میں نے مختلف چینل گھمانے شروع کئے کہ شاید عیسائیت میں کوئی تسلی ملے یا شیعوں کے پاس کوئی حل ہو تو اچانک ایم۔ٹی۔اے العربیہ مل گیا جہاں کچھ اجنبی لوگ نظر آئے جو مسلمانوں سے مشابہ تھے لیکن ان کی باتیں اجنبی تھیں، لیکن تھیں قرآن کریم کے مطابق۔کہتے ہیں ان کا چینل اسلامی تھا لیکن ان کا اسلام میرے لئے اجنبی تھا اور کہنے والے کہتے تھے کہ ہمارا امام مہدی ظاہر ہو چکا ہے اور وہی مسیح موعود ہے جو قاتل دجال ہے۔وہی قرآن کے نور سے حکم اور عدل ہے۔وہ خدا تعالیٰ کی وحی کے ذریعے مہدی کا لقب پانے والا ہے اور وحی منقطع نہیں ہوئی، وغیرہ وغیرہ۔کہتے ہیں یہ ساری باتیں سن کر اور ان میں گہرے غور و فکر کے نتیجے میں چند دن تک میرا اسر چکرانے لگا کہ میں کیائن رہا ہوں۔پھر جب تو ازن بحال ہوا تو دل نے فتویٰ دیا کہ مزید پروگرام دیکھنے چاہئیں۔لیکن ساتھ یہ خیال بھی آتا تھا کہ بہت سے علماء کہلانے والے ان لوگوں کو کافر قرار دیتے ہیں۔اس عرصے میں وہ تحقیق بھی کرتے رہے ، علماء سے پوچھتے رہے۔انہوں نے کہا یہ لوگ تو کافر ہیں۔کہتے ہیں پھر مجھے خیال آیا کہ تکذیب تو سب نبیوں کی ہوئی ہے ، انہیں جادو گر اور مجنون کہا گیا ہے، خود ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما گئے ہیں کہ اُمت فرقوں میں بٹ جائے گی، اسلام اجنبی ہونے کی حالت میں شروع ہوا اور پھر دوبارہ اجنبی ساہو جائے گا۔اور ایسے اجنبیوں کو مبارک ہو۔پھر ایسی پیشگوئیاں بھی موجود ہیں کہ علماء بہت ہوں گے لیکن فقہاء کم ہوں گے۔پھر حضور علیہ السلام نے مشکلات کے باوجود امام مہدی کی اتباع پر بہت زور دیا اور تاکید فرمائی ہے۔کہتے ہیں آخر میں نے خدا تعالیٰ سے مدد طلب کی۔دعا کی اور نمازیں پڑھیں، قرآنِ کریم کی تلاوت بکثرت شروع کر دی۔پھر مجھے معلوم ہوا کہ آپ علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کے حکم سے ایک جماعت بنائی ہے جس کے آپ امام ہیں اور اس جماعت کا دستور قرآنِ کریم ہے اور قول و فعل میں اس کا اسوہ حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔آپ نے اسلام کی سچائی پر زور دیا ہے اور مختلف آراء و اقوال میں سے صحیح کو لیا ہے اور باقی کا غلط ہونا ثابت کیا ہے۔پھر ان باتوں پر میں نے غور کیا توان سب کو پاکیزہ اور ثابت شدہ حقائق پایا جنہیں کوئی جھوٹا شخص بیان نہیں کر سکتا۔چنانچہ میں ان باتوں کی طرف مائل ہو گیا کیونکہ یہی قرآنِ کریم میں بھی بیان ہوا ہے، یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اور اسی پر صحابہ بھی ایمان لائے تھے۔یہی سنت سے بھی ثابت ہے۔کہتے ہیں احادیث کو میں نے دیکھا تو مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام