خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 328 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 328

328 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جون 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم والے حملے میں تین چار گولیاں لگیں جس سے موقع پر ہی شہید ہو گئے۔اہل خانہ نے بتایا کہ شہید مرحوم پنجوقتہ نماز کے پابند تھے روزانہ اونچی آواز میں تلاوت قرآن کریم کیا کرتے۔معذور ی کے باوجود اپنا کام خود کرتے تھے۔خلافت سے عشق تھا۔اپنی استطاعت سے بڑھ کر چندہ ادا کرتے تھے۔سلسلہ کی بہت ساری کتب کا مطالعہ کر چکے تھے۔بہت دعا گو انسان تھے۔اللہ تعالیٰ درجات بلند فرمائے۔مکرم محمد حسین علی صاحب اگلا ذکر ہے مکرم محمد حسین علی صاحب شہید ابن مکرم محمد ابراہیم صاحب کا۔شہید کا تعلق گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ سے تھا۔ان کے والد محترم نے بیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کی۔کچھ عرصہ سندھ میں بھی رہے۔34 سال سے لاہور میں مقیم تھے۔ان کو جماعتی سکولوں میں بھی پڑھانے کا موقع ملا۔بوقت شہادت ان کی عمر 68 سال تھی۔مسجد بیت النور ماڈل ٹاؤن میں جام شہادت نوش فرمایا۔بانڈ و گجر لاہور میں تدفین ہوئی۔سانحہ کے روز ایک بجے کے قریب سائیکل پر گھر سے نکلے اور مسجد بیت النور کے مین ہال میں پہلی صف میں بیٹھے تھے کہ دہشتگردوں کی فائرنگ سے بازو اور پیٹ میں گولیاں لگیں اور شدید زخمی ہو گئے۔زخمی حالت میں میوہسپتال لے جایا گیا جہاں آپریشن تھیٹر میں شہید ہو گئے۔اہل خانہ نے بتایا کہ پنجوقتہ نماز کے پابند تھے ، تہجد باقاعدگی سے ادا کرتے۔ہر نیکی کے کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔پیشہ کے لحاظ سے الیکٹریشن تھے۔غریبوں اور ضرور تمندوں کا کام بغیر معاوضہ کے کر دیتے تھے۔اپنے حلقہ کی مسجد اپنی نگرانی میں تعمیر کروائی۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔مکرم مرزا محمد امین صاحب اگلا ذکر ہے مکرم مرزا محمد امین صاحب شہید ابن مکرم حاجی عبد الکریم صاحب کا۔شہید مر حوم کے والد جموں کشمیر کے رہنے والے تھے۔انہوں نے 1952ء میں بیعت کر کے احمدیت میں شمولیت اختیار کی۔والد صاحب کے بیعت کرنے کے کچھ عرصہ بعد شہید مرحوم نے بھی بیعت کرلی تھی۔بوقت شہادت ان کی عمر 70 سال تھی اور مسجد دارالذکر میں جام شہادت نوش فرمایا۔عموماً مسجد دارالذکر میں نماز جمعہ ادا کرتے تھے۔پہلی صف میں بیٹھے ہوئے تھے کہ گرینیڈ اور گولیوں کے حملہ میں شدید زخمی ہو گئے۔تین دن ہسپتال میں زیر علاج رہے۔31 مئی کو ہسپتال میں ہی شہید ہو گئے۔سانحہ سے دو دن قبل رات کو سوئے ہوئے تھے کہ اچانک اپنے دونوں ہاتھ بلند کر کے الله اكبر کہہ کر اٹھ بیٹھے۔ہڑ بڑا کر نعرہ لگاتے ہوئے اٹھے۔نہایت خوش اخلاق اور ملنسار تھے۔جماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔مختلف جماعتی مقابلہ جات میں انعامات بھی حاصل کئے۔مکرم ملک زبیر احمد صاحب اگلا ذکر ہے مکرم ملک زبیر احمد صاحب شہید ابن مکرم ملک عبد الرشید کا۔شہید مرحوم ضلع فیصل آباد کے