خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 451
451 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 25 ستمبر 2009 رب! ہمیں اپنے جیون ساتھیوں اور اپنی اولا د سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا کر اور ہمیں متقیوں کا امام بنا۔یہی وہ لوگ ہیں کہ انہیں اس باعث کہ انہوں نے صبر کیا بالا خانے بطور جزا دیئے جائیں گے اور وہاں ان کا خیر مقدم کیا جائے گا اور سلام پہنچائے جائیں گے۔وہ ہمیشہ اُن جنتوں میں رہنے والے ہوں گے۔وہ کیا ہی اچھا مستقل اور عارضی ٹھکانہ ہے۔رمضان کا مہینہ آیا اور گزر گیا ، لوگوں کے خطوط ابھی تک آ رہے ہیں۔رمضان کے دنوں کے لکھے ہوئے خطوط بھی ہیں اور رمضان کے بعد لکھے ہوئے خطوط بھی جو فیکسز کے ذریعہ سے پہنچ رہے ہیں کہ اللہ کرے ہم نے خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی حقیقتا کوشش کی ہو اور اگر کوئی پاک تبدیلی پیدا ہوئی ہے تو خدا تعالیٰ اُسے جاری بھی رکھے۔اور یہ خیالات اور احساسات جو ہم میں سے بعض میں پیدا ہوئے ہیں یہی رمضان کا مقصد ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بعض خصوصیات اور علامتیں بتائی ہیں جن کو اختیار کر کے یا جن پر عمل کر کے انسان عبادالرحمن کہلا سکتا ہے۔یہ آیات جومیں نے تلاوت کی ہیں ان میں یہ خصوصیات بیان ہوئی ہیں جیسا کہ آپ نے سنا۔جن میں ذاتی ذمہ داریوں کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے ، معاشرتی ذمہ داریوں کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے اور خدا تعالیٰ کا حق ادا کرنے کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے۔اگر ان کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے تو خدا تعالیٰ ایسے لوگوں کو عبادالرحمن کہ کر مخاطب کرتے ہوئے اپنی رضا کی خوشخبری دیتا ہے، اپنی جنتوں کی خوشخبری دیتا ہے۔پس رمضان کے بعد بھی اگر ہم اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے رہیں گے تو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے ہوں گے۔اُس کی جنتوں میں جانے والے ہوں گے۔اس سے حصہ لینے والے ہوں گے۔اور اسی وجہ سے پھر جب اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہو جائے گا تو جو پاک تبدیلیاں ہم میں سے کسی میں پیدا ہوئی ہیں وہ بھی ہم میں قائم رہیں گی۔پہلی خصوصیت ان عبادالرحمن کی یہ ہے کہ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا یعنی زمین پر عاجزی اور وقار کے ساتھ چلتے ہیں۔ہر فیصلہ ان کا اعتدال پر ہوتا ہے۔بلاوجہ کی تختی اور غصہ ان کی طبیعت میں نہیں ہوتا جو کہ پھر بعض اوقات تکبر تک لے جاتا ہے۔اور بلا وجہ کا ٹھہراؤ بھی ان کی طبیعت میں نہیں ہوتا کہ ان سے بے غیرتی اور مداہنت کا اظہار ہوتا ہو۔یہ خصوصیت جو بیان کی گئی ہے صرف انفرادی نہیں ہے بلکہ جماعتی طور پر بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ من حیث الجماعت بھی اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے عبادت گزار بنتے ہوئے یہ خصوصیات پیدا کر و۔اور پھر اس میں یہ پیشگوئی بھی ہے کہ جو عبادالرحمن ہیں ان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے غلبہ بھی ملے گا۔اور جب غلبہ کی صورت ہو تو اس وقت تکبر پیدا نہ ہو۔اُس وقت پرانے بدلے لینے کی طرف توجہ نہ ہو۔اُس وقت خدا کو بھولنے والے نہ کہیں بن جانا۔بلکہ تمہیں عاجزی، انکسار اور حقوق کی ادائیگی کا خیال رکھنے والا ہونا چاہئے۔