خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 216
خطبات مسرور جلد ششم 216 خطبہ جمعہ فرمودہ 30 مئی 2008 بہر حال جیسا کہ میں نے کہا اور دوبارہ کہتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ سب کے ایمان اور اخلاص کو بڑھائے۔ایسے ایسے خط ہیں کہ میں جذبات سے مغلوب ہو جاتا ہوں۔کیسے کیسے حسین خوبصورت پھول اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چمن میں کھلائے ہوئے ہیں جن کی خوبصورتی کا بیان بھی بعض اوقات مشکل ہو جاتا ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ آپ سب کو ایمان اور اخلاص میں بڑھاتا چلا جائے۔اللہ تعالیٰ کے انعاموں اور احسانوں میں سے ایک انعام اس زمانے کی ایجاد سیٹلائٹ ٹیلی ویژن بھی ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا فرمایا ہے۔اس کے بارہ میں میں کچھ بتانا چاہتا ہوں۔اس میں بہت سارے ہمارے والنٹیئر ز بھی کام کرتے ہیں اور بڑی محنت سے کام کرتے ہیں۔بہت تھوڑے ہیں جو Paid ملازمین ہیں۔اکثر اپنا وقت بغیر کسی معاوضے کے دیتے ہیں اور اسی وجہ سے یہ تمام پروگرام دنیا دیکھتی بھی ہے۔اس کو کامیاب بنانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔یہ لوگ ایسا کام کر رہے ہیں تا کہ دنیا کواللہ تعالیٰ کے فضلوں کے نظارے دکھا سکیں اور اس وحدت کے نظارے دکھا سکیں جو اللہ تعالیٰ نے انعام کے طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کو عطا فرمائے ہیں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اکے پیغام کو دنیا تک پہنچاسکیں۔تا کہ سعید روحوں کو اس طرف توجہ پیدا ہو تو حق کو پہچان سکیں۔جب اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہامات کے ذریعہ جماعت کی ترقی کی خبریں دیں اور آپ کو یقین سے پُر فرمایا کہ یقینا آپ کا غلبہ ہونا ہے، جماعت کا غلبہ ہے۔جیسا کہ بے شمار الہامات اس بارہ میں ہیں۔ایک جگہ آپ نے فرمایا كَتَبَ اللَّهُ لَاغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِنی یہ آپ کو الہام بھی ہوا تھا آیت بھی ہے۔تو آپ نے اس کا یہی ترجمہ فرمایا کہ خدا نے ابتداء سے مقدر کر چھوڑا ہے کہ وہ اور اس کا رسول غالب رہیں گے۔یہاں اسلام کی طرف بھی اشارہ ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کی طرف بھی۔کیونکہ اس زمانہ میں اسلام کی ترقی آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وابستہ ہے۔۔پس یہ بھی اللہ تعالیٰ کی تقدیروں میں سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو غلبہ عطا فرمانا ہے۔لیکن اس کے لئے دنیاوی سامان بھی ہوتے ہیں اور یہ سامان بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے وقت پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا فرمائے اور فرما تارہا ہے اور اب بھی فرما رہا ہے۔آپ نے اپنے زمانے میں جو کتب لکھیں اور ان کی اشاعت کی، بلکہ ایک خزانہ تھا جو کہ دیا اور دنیا کے سامنے پیش فرمایا وہ بھی اس غلبہ کے لئے ایک ذریعہ تھا۔اور اب اس زمانہ میں اس خزانے کو ایم ٹی اے کے ذریعہ دنیا تک پہنچانے کے سامان بھی اللہ تعالیٰ نے مہیا فرمائے ہیں۔پھر جیسا کہ میں نے کہا کہ جماعت کی ترقی اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق جاری کردہ آپ کی خلافت کے نظام