خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 1 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 1

خطبات مسرور جلد ششم 1 1 خطبه جمعه فرموده 4 جنوری 2008 فرمودہ مورخہ 04 جنوری 2008 ء بمطابق (4) صلح 1387 ہجری شمسی ) بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد یہ آیات تلاوت فرمائیں : الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ لَا يُتَّبِعُونَ مَا انْفَقُوا مَنَّا وَّلَا أَذًى لَّهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَرَبِّهِمُ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُون (البقره: 262-263) یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے بعض لوگوں کے نیک عمل کا ذکر کیا ہے اور پھر ان پر اپنے فضل کا اور انعام کا۔آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو اپنے اموال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ، پھر جو خرچ کرتے ہیں اس کا احسان جتاتے ہوئے یا تکلیف دیتے ہوئے پیچھا نہیں کرتے اُن کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور اُن پر کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ غم کریں گے۔یہ لوگ کون ہیں ؟ یہاں مخاطب کون ہیں؟ اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والے کو اجر دیتا ہے۔بعض لوگ اللہ کی خاطر نیکی نہیں بھی کرتے لیکن نیکی ہوتی ہے۔دکھاوا بھی نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ تو ان کو اجر دیتا ہے۔سیاق وسباق سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مومنین کی جماعت کا ذکر ہو رہا ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور اللہ کی رضا کے حصول کے لئے خرچ کرتے ہیں۔جیسا کہ ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا تُنفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ الله (البقرة: 273) یعنی تم اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے علاوہ کبھی خرچ نہیں کرتے۔پس یہ مومن کی شان ہے اور ہونی چاہئے کہ وہ اپنا ہر فعل خدا کی رضا حاصل کرنے کے لئے کرے۔یہاں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کی بھی یہی نشانی بتائی کہ کیونکہ اللہ کی رضا کا حصول خرچ کے پیچھے کار فرما ہوتا ہے اس لئے لَا يُتَّبِعُونَ مَا انْفَقُوا مَنَّا وَّلَا أَذًى جو خرچ ہیں اس کا پھر تکلیف دیتے ہوئے ، احسان جتلاتے ہوئے پیچھا نہیں کرتے۔جبکہ غیر مومن کی یہ نشانی ہے کہ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ رِئَاءَ النَّاسِ (النساء: 39) یعنی اپنے اموال لوگوں کے سامنے دکھاوے کی خاطر خرچ کرتے ہیں۔اور فرمایا یہ لوگ جو دکھاوے کی خاطر خرچ کرتے ہیں لَا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ (النساء: 39) اور جونہ اللہ پر ایمان رکھتا ہو نہ یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ شیطان کے ساتھی ہیں ان کا اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔پس ایک مومن جو شیطان سے دُور بھاگتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑتا ہے اور جوڑ نا چاہتا ہے وہ کبھی دکھاوے کے لئے