خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 457 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 457

457 خطبہ جمعہ 09 / نومبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم کے پاک مالوں کو بڑھاتا چلا جائے اور یہ سب تمام قدرتوں کے مالک خدا کی رضا حاصل کرنے کے لئے پہلے سے بڑھ کر قربانیاں کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا فہم و ادراک حاصل کرنے والے بنیں۔اُن خصوصیات کے حامل بنیں جو مومنین کی جماعت کا خاصہ ہیں۔جیسا کہ میں نے ذکر کیا تھا کہ گزشتہ سال شامل ہونے والوں کے اعداد و شمار میں غلطی سامنے آئی ہے ایک تو جماعتیں ، خاص طور پر افریقن ممالک میں اعداد و شمار کو خاص طور پر چیک کیا کریں۔دوسرے گو کہ زیادہ ادا ئیگی کرنے والی جماعتوں کے شامل ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے لیکن افریقہ کے بہت سارے ممالک ایسے ہیں جہاں بہت ساری گنجائش موجود ہے اور اگر وہاں مبلغین اور عہدیداران کوشش کریں تو یہ تعداد میرے خیال میں اگلے سال دو گنی بھی ہو سکتی ہے۔اگر ستی ہے تو کام کرنے والوں کی ہے جن کے سپر دذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں۔جس سعید فطرت نے احمدیت قبول کی ہے اس نے تو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول اور مومنین کی جماعت میں شامل ہونے کے لئے احمدیت قبول کی ہے۔عہدیداران بھی اور مربیان بھی اُسے جب تک ان باتوں کا صحیح اور اک نہیں پیدا کروائیں گے ان کو کس طرح پتہ چل سکتا ہے کہ ان تحریکات کی کیا اہمیت ہے۔پس جیسا کہ میں پہلے بھی کئی دفعہ کہہ چکا ہوں کہ تحریک جدید اور وقف جدید میں نو مبائعین کو خاص طور پر ضرور شامل کریں۔چاہے وہ معمولی سی رقم دے کر شامل ہوں اور اُن کو ان خصوصیات میں سے کسی سے بھی محروم نہ رہنے دیں جو مومنین کی جماعت کا خاصہ ہیں۔اللہ تعالیٰ ہر فرد جماعت اور عہدیداران کو اس روح کو سمجھنے کی توفیق دے اور قربانیوں میں بڑھنے کی توفیق دے۔ایک افسوسناک خبر بھی ہے، ہمارے سیرالیون کے رہنے والے ایک مبلغ یوسف خالد ڈوروی صاحب گزشتہ دونوں وفات پاگئے اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا لَيْهِ رَاجِعُونَ۔انہوں نے پاکستان میں جامعہ احمدیہ سے شاہد کی تعلیم حاصل کی ، جامعہ پاس کیا اور اس کے بعد پھر سیرالیون میں مختلف ریجنز میں خدمات بجالاتے رہے۔گزشتہ سال بلکہ اس سال ہی جماعت کے نائب امیر اوّل مقرر ہوئے تھے اور وفات کے وقت جامعہ احمدیہ سیرالیون کے پرنسپل تھے۔جہاں بھی ان کو خدمت کا موقع ملا، ہمیشہ نہایت محنت سے ، اخلاص سے اور جانفشانی سے خدمات بجالاتے رہے۔پاکستان میں قیام کے دوران ہی ولیہ صاحبہ سے آپ کی شادی ہو گئی تھی۔ان کا نام حلیمہ بھی ہے۔یہ وہی بچی ہیں جن کو حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ 1970ء میں اپنے دورہ سیرالیون سے واپسی پر پاکستان ساتھ لے کر آئے تھے اور گھر میں ہی بیٹی بنا کر بچوں کی طرح رکھا۔28 /1اکتوبر کو، ان کی طبیعت خراب ہوئی تھی میٹنگ میں آئے ہوئے تھے وہیں اچانک بیہوش ہو گئے اور ٹسٹ (Test) وغیرہ سے پتہ لگا کہ بیاٹائٹس ہے۔بہر حال ایک دن بعد ہی Coma میں چلے گئے اور 2 نومبر کو وفات ہوئی ہے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون اللہ کے فضل سے موصی تھے اور بڑے