خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 366
خطبات مسرور جلد پنجم 366 خطبہ جمعہ 7 ستمبر 2007 ء حقیقی شکر گزاری کا بھی صحیح طریق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق میں بھی امتیازی اور نمایاں تبدیلی پیدا ہو اور نظام جماعت کی اطاعت کا بھی بہترین نمونہ بنیں۔ہمیشہ یہ بات پیش نظر رکھیں کہ آنحضرت ﷺ ہمارے اطاعت کے کیا معیار دیکھنا چاہتے تھے؟ کیا تعلیم ہمیں دی ہے اور وہ یہ کہ تمہارا حق ادا ہورہا ہے یا نہیں ہورہا لیکن تمہارا یہ فرض ہے کہ سنو اور اطاعت کرو۔ان لوگوں پر جن پر تمہارے حقوق ادا کرنا فرض ہے اُن پر اُن کے عملوں کا بوجھ ہے اور تمہارے پر تمہارے عملوں کا بوجھ۔پس اللہ تعالیٰ خود ایسے حق ادا نہ کرنے والے عہدیداروں سے پوچھ لے گا۔جماعت احمدیہ پر تو اللہ تعالیٰ کا یہ بھی بہت بڑا فضل ہے اور احسان ہے کہ خلافت کی نعمت سے نوازا ہے اور اس کو اپنے انعاموں میں سے ایک انعام کہا ہے۔پس یہ انعام بھی اس لئے ہے کہ اس نے حق کا ساتھ دینا ہے۔خلیفہ وقت کسی کی پارٹی نہیں ہوتا۔کسی سے ایسا رویہ اختیار نہیں کرتا کہ یہ اظہار ہورہا ہو کہ اس کی طرفداری کی جارہی ہے۔اگر کوئی شکایت ہو تو خلیفہ وقت کو اطلاع دی جا سکتی ہے۔پس نئے احمدی بھی اور پرانے احمدی بھی یہ نمونے قائم کریں تو جماعتی ترقی میں ممدومعاون ثابت ہو سکتے ہیں۔جلسے کے دنوں میں میں نے مقامی جرمن لوگوں سے ایک میٹنگ کی ، جو نو مبائع تھے اور چند مہینے پہلے احمدی ہوئے، کچھ چند سال پرانے بھی تھے۔وہاں ایک نو مسلم جرمن نے یہ سوال کیا کہ اگر کوئی عہد یدار رہ چکا ہو اور اب عہد یدار نہ ہونے کی وجہ سے نئے عہدیداروں سے مکمل طور پر تعاون نہ کر رہا ہو، اس کی اطاعت نہ کر رہا ہو تو اس کا کیا علاج ہے؟ کس طرح اصلاح کی جائے ؟ یہاں اصلاح کا سوال تو بعد میں آتا ہے اس سوال نے تو مجھے ویسے ہی ہلا دیا ہے کہ پاکستان سے آئے ہوئے احمدیوں نے اپنے یہ نمونے قائم کئے ہیں کہ جب تک عہد یدار رہے نظام کی اطاعت پر تقریر بھی کرتے رہے اور اطاعت کی توقع بھی کرتے رہے۔جب عہدہ ختم ہوا تو بالکل ہی گھٹیا ہو گئے۔پاکستانیوں کو ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ آپ سے اعلیٰ نمونے کی توقع کی جاتی ہے۔اگر یہی مثالیں قائم کرنی ہیں تو آپ نے تو اپنی پرانی تربیت بھی ضائع کر دی اور جلسوں کے مقاصد کو بھی ضائع کر دیا۔دوسرے یہ یا درکھیں کہ تمام قوموں نے انشاء اللہ تعالیٰ احمدیت اور حقیقی اسلام میں شامل ہونا ہے اور ہر قوم نے نظام جماعت میں شامل ہو کر اپنے ملکوں کا نظام بھی خود چلانا ہے۔اس لئے اس خیال سے اپنے ذہنوں کو پاک کریں کہ ایک نیا آیا ہوا جرمن ہم پر کس طرح مسلط کیا جاسکتا ہے یا وہ ہمارا عہد یدار کس طرح بن سکتا ہے؟ اس بات سے کہ آپ عہدیدار نہیں بنے اور نیا آیا ہوا عہدیدار بن گیا ، آپ کو استغفار کا زیادہ خیال آنا چاہئے ، استغفار میں زیادہ بڑھنا چاہئے کہ ہماری کمزوری کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے جماعت کی خدمت کا موقع ہم سے لے کر ان نئے شامل ہونے والوں کو دے دیا جو اخلاص و وفا اور اطاعت نظام اور اطاعت خلافت میں بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔پس ایسے بد خیالات رکھنے والے اپنی اصلاح