خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 348 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 348

خطبات مسرور جلد پنجم 348 خطبہ جمعہ 24 /اگست 2007 ء ہے۔آفت میں گھرے ہوں تو اللہ کہتا ہے کہ اس وقت میرا نام ہی لیتے ہیں اور کوئی خدا یاد نہیں آتا۔اس نے مجھے کہا کہ وزیٹرز بک (Visitor's Book) پر اپنے تاثرات لکھ دو، دستخط کرو تو میں نے اس پر یہی لکھا کہ یہ ایک اچھی انسانی کوشش ہے اور کوشش کے لحاظ سے ایک زبر دست منصوبہ ہے جو ملک کو بچانے کے لئے انجینئرز نے بنایا ہے۔لیکن ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اصل منصو بے خدا تعالیٰ کے ہیں اور حقیقی حفاظت میں رہنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی یاد ہمیشہ رہنی چاہئے۔تو بہر حال آج کل دنیا جس مادیت پرستی میں پڑی ہوئی ہے ، اور اس میں کوئی تخصیص نہیں ہے، مغرب بھی اسی طرح ہے اور مشرق بھی اسی طرح ہے ، سب خدا کو بھولے ہوئے ہیں۔پھر بعض طبقے جو مزید آگے بڑھے ہوئے ہیں وہ پھر اللہ تعالیٰ کی غیرت کو بھڑ کانے والے بھی ہیں ، نہ صرف بھولے ہوئے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں بیہودہ گوئی بھی کرتے ہیں۔یہ سب باتیں خدا تعالیٰ کے عذاب کو آواز دینے والی ہیں۔پس ہر احمدی کا فرض بنتا ہے کہ دنیا کے ہر ملک میں اتمام حجت کرنے کے لئے کمر بستہ ہو جائے۔اسلام کی صحیح تصویر دنیا کو دکھا ئیں۔عیسائیوں کو بھی، یہودیوں کو بھی ، لا مذہبوں کو بھی اور مسلمانوں کو بھی جو تمام نشانات دیکھنے کے با وجود مسیح موعود کا انکار کر رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”اگر میں نہ آیا ہوتا تو ان بلاؤں میں کچھ تاخیر ہو جاتی ، پر میرے آنے کے ساتھ خدا کے غضب کے وہ مخفی ارادے جو ایک بڑی مدت سے مخفی تھے ظاہر ہو گئے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 268 مطبوعہ لندن) گزشتہ 100 سال کا جائزہ لیں تو زلزلوں اور آسمانی آفات کی تعداد گزشتہ کئی 100 سال سے زیادہ ہے۔گزشتہ گیارہ بارہ سو سال میں اتنی آفات نہیں آئیں جتنی گزشتہ 100 سال میں آئی ہیں۔اس سال بھی کئی زلزلے اور طوفان آئے اور دنیا میں کئی جگہ آئے ، یہ انسان کو وارننگ ہے کہ خدا کو پہچانو۔ہر احمدی کا کام ہے کہ جہاں اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرے دنیا کو بھی بتائے کہ ان آفات سے بچنے کا صرف ایک ہی علاج ہے کہ ایک خدا کو پہچا نو اور اس کے پیاروں کو ہنسی ٹھٹھے کا نشانہ نہ بناؤ۔ساری دنیا میں اس سال چند مہینوں میں جو قدرتی آفات آئی ہیں، ان کا مختصر جائزہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں ،کبھی یہ نہیں ہوا کہ چند ماہ میں دنیا کا ہر خطہ کسی نہ کسی آفت کی لپیٹ میں آ گیا ہو لیکن اس سال آپ دیکھیں گے کہ ہر جگہ آفات آ رہی ہیں۔ان کو بتائیں کہ اب بھی وقت ہے کہ انسان خدا کو پہچانے۔یہ چھوٹے درجہ کی جو آفات ہیں یہ انتہائی درجہ کی بھی ہو سکتی ہیں۔پس ہر احمدی پہلے سے بڑھ کر دنیا تک خدا کا پیغام پہنچانے والا بن جائے۔میں نے جو معلومات لی تھیں، پتہ نہیں ی کمل بھی ہیں کہ نہیں لیکن اس کے مطابق اس سال فروری میں انڈو نیشیا میں Floods آئے ، 3لاکھ چالیس ہزار آدمی