خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 15
15 خطبہ جمعہ 12 جنوری 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم 81 فیصد۔اور اس کے بعد ساؤتھ ویسٹ ریجن ہے جس میں کارنوال وغیرہ شامل ہیں اس کی 80 فیصد شمولیت ہے۔نارتھ ایسٹ ریجن کی 78 سے اوپر ہے۔لیکن یہاں نارتھ ایسٹ میں باقی تو ٹھیک ہے سکنتھ روپ والے اکثر ڈاکٹر ہیں ان کی شمولیت بہت کم ہے۔اور سب سے کم ساؤتھ ریجن میں 54 فیصد شمولیت ہے۔تو شمولیت کے لحاظ سے کوشش کرنی چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ تعداد وقف جدید میں شامل ہو اور اس میں بچوں کو شامل کریں۔آگے کوائف میں دوبارہ بتاؤں گا بلکہ یہاں میں بتا ہی دیتا ہوں اس سے متعلقہ ہی ہیں۔تحریک جدید میں میں نے بریڈ فورڈ کو توجہ دلائی ان کے بڑے خط آئے تھے کہ ہم وقف جدید میں اس دفعہ یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے۔تو ایک تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے وقف جدید کی شمولیت میں بھی لندن مسجد کا جو علاقہ ہے وہ فی کس ادا ئیگی کے لحاظ سے نمبر ایک پر ہی ہے۔62 پاؤنڈز سے اوپر تقریباً 63 پاؤنڈز فی کس ہے۔اور بریڈفورڈ جنہوں نے بہت دعوے کئے تھے وہ 38 پاؤنڈز پر ہیں۔اسی طرح برمنگھم بہت ہی نیچے ہے وہاں اچھے بھلے کھاتے پیتے لوگ ہیں ، بہت بڑھ سکتے ہیں، مانچسٹر میں بڑھ سکتے ہیں۔دوسری جماعت جو اپنے لحاظ سے اچھی قربانی کرنے والی ہے وہ ووسٹر پارک ہے۔تو یہ اور ہندوستان کے کوائف میں نے اس لئے بتائے ہیں کہ آپ لوگوں کو ضرورت کا بھی اندازہ ہو جائے اور اپنی قربانی کا بھی۔ٹھیک ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اتنا بوجھ نہ ڈالو جو برداشت نہ ہو سکے اور عفو پر عمل کرو یعنی اپنے بیوی بچوں کی ضروریات کا بھی خیال رکھو۔ان کو پورا کرو۔لیکن ضروریات کی بھی کوئی حد مقرر ہونی چاہئے اس کے بھی معیار ہونے چاہئیں۔ورنہ اس زمانے میں جتنا دنیاوی چیزوں کی خواہش کرتے جائیں گے، خواہشیں بڑھتی جائیں گی اور قسم قسم کی جو چیزیں بازار میں دیکھتے ہیں وہ آپ کی خواہشات کو مزید بھڑکاتی ہیں تو اس لحاظ سے بھی دیکھنا چاہئے کہ عفو کی تعریف کیا ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ایمانی حالت کی بہتری کے لئے بھی قربانی کی ضرورت ہے۔تو اپنے بچوں میں بھی اس قربانی کی عادت ڈالیں تا کہ جب وہ بڑے ہوں تو ان کی خواہشات کی جو ترجیحات ہیں ان میں اللہ کی خاطر مالی قربانی سب سے اول نمبر پر ہو۔اس سے ایک تو شاملین کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا اور جو عفو کے معیار ہیں وہ ترجیحات بدل جانے سے بدل جائیں گے۔جولوگ بچوں کو بھی جب جیب خرچ دیتے ہیں تو ان کو اس میں سے چندہ دینے کی عادت ڈالیں۔عیدی وغیرہ میں سے چندہ دینے کی عادت ڈالیں ، ان مغربی ممالک میں میں نے اندازہ لگایا ہے جیسا کہ پہلے بھی میں کہہ چکا ہوں کہ بازار سے کھانا برگر وغیرہ جو ہیں اور بڑے شوق سے کھائے جاتے ہیں اور جو مزے کے لئے کھائے جاتے ہیں ، ضرورت نہیں ہے۔اگر مہینے میں صرف دو دفعہ