خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 13 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 13

13 خطبہ جمعہ 12 جنوری 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم اللہ تعالیٰ بندے کی مرضی پر چھوڑ کر پھر اس کا اجر بھی بے حساب دیتا ہے۔پابند نہیں کر رہا کہ اتنا ضرور دینا ہے۔چھوڑ بھی بندے کی مرضی پر رہا ہے، ساتھ فرما رہا ہے جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا اجر بھی دوں گا۔صرف یہ ہے کہ خرچ کرنے والے کی نیت نیک ہونی چاہئے۔اس سے زیادہ ستا اور عمدہ سودا اور کیا ہوسکتا ہے۔ہندوستان کی جماعتوں کو بھی میں کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کو رقمیں تو مہیا ہو جاتی ہیں جیسا کہ پہلے بھی میں نے کہا تربیتی اور تبلیغی پروگراموں میں گنجائش موجود ہے اس لئے جتنا وہاں کام ہونا چاہئے تھا اتنا نہیں ہو رہا۔اس لئے اس طرف پھر ایک نئے ولولے اور جوش کے ساتھ توجہ دیں۔گزشتہ سال جب قادیان گئے تو توجہ دلانے پر بہتری کی طرف ہل جل تو پیدا ہوئی ہے۔مالی قربانی کے جو انہوں نے اعداد و شمار بھجوائے ہیں ان سے بھی پتہ چلتا ہے کہ تربیت کی طرف توجہ ہے اور اسی وجہ سے پھر مالی قربانی کی طرف بھی لوگوں کی توجہ ہوئی ہے۔وقف جدید میں مالی قربانی کرنے والوں کی تعداد میں اس سال انہوں نے 4 ہزار کا اضافہ کیا ہے۔لیکن یہ بات شاید پہلی دفعہ ہے کہ جو بجٹ انہوں نے بنایا تھا اور پچھلے سال سے بڑھ کر بنایا تھا اس بجٹ سے انہوں نے نو مبائعین کے علاقے میں دو لاکھ 30 ہزار زائد وصولی بھی کر لی ہے اور فی کس ادا ئیگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔چاہے معمولی اضافہ ہے لیکن ان کے لحاظ سے یہ معمولی اضافہ بھی بہت ہے۔گو پانچ ساڑھے پانچ روپے کے قریب اضافہ ہے اور جیسا کہ میں نے کہا کہ چندہ دینے والوں کی اکثریت نو مبائعین یا چند سال پہلے کے بیعت کنندگان کی ہے۔پس اس طرف مزید توجہ کریں۔ہندوستان کی جماعتیں ابھی تک اپنے اخراجات کا یعنی وقف جدید پر ہونے والے اخراجات کا تقریباً تین فیصد اپنے وسائل سے پورا کر رہی ہیں۔یہ مختصر کوائف جو میں نے دیئے ہیں یہ ہندوستان کی جماعتوں کو توجہ دلانے والے ہونے چاہئیں۔اس طرح جو بیعتوں کی تعداد ہے اس حساب سے بھی شمولیت میں بہت گنجائش ہے۔اگلے سال ہندوستان کو بھی اپنے لئے کم از کم شامل ہونے والوں کا 5 لاکھ کا ٹارگٹ رکھنا چاہئے۔مجھے امید ہے انشاء اللہ دعاؤں اور توجہ سے اس کام میں پڑیں گے تو کوئی مشکل نظر نہیں آئے گی۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے 1985ء میں یہ تحریک تمام دنیا کے لئے کر دی تھی اور مقصد ہندوستان کی جماعتوں کی مدد کرنا تھا۔اعداد و شمار سے آپ دیکھ چکے ہیں کہ ہندوستان اپنے وسائل سے فی الحال تین فیصد اخراجات پورے کر رہا ہے اور 97 فیصد اخراجات باہر کی دنیا پورے کرتی ہے اور اس میں یورپ اور امریکہ کے بڑے ممالک ہیں۔اس سال یورپ اور امریکہ کے ممالک کی وقف جدید میں کل وصولی بمشکل ہندوستان کے خرچ پورے کر رہی ہے۔اور افریقہ کی جماعتوں کے بہت سارے اخراجات دوسری مدات سے پورے کئے جاتے ہیں۔تو ان ممالک کو جو مغرب کے ممالک ہیں بھارت اور افریقہ کے وقف جدید کے