خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 87 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 87

خطبات مسرور جلد چهارم 87 خطبہ جمعہ 10 فروری 2006ء دعاؤں میں بھی ڈھلے اور اس کے شعلے ہر دم آسماں تک پہنچتے رہیں۔پس یہ آگ ہے جو ہر احمدی نے اپنے دل میں لگانی ہے اور اپنے درد کو دعاؤں میں ڈھالنا ہے۔لیکن اس کے لئے پھر وسیلہ حضرت محمد مصطفی اصلی اللہ علیہ وسلم نے ہی بننا ہے۔اپنی دعاؤں کی قبولیت کے لئے اور اللہ تعالیٰ کے پیار کو کھینچنے کے لئے ، دنیا کی لغویات سے بچنے کے لئے ، اس قسم کے جو فتنے اٹھتے ہیں ان سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو دلوں میں سلگتا رکھنے کے لئے ، اپنی دنیا و آخرت سنوارنے کے لئے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بے شمار درود بھیجنا چاہئے۔کثرت سے درود بھیجنا چاہئے۔اس پرفتن زمانے میں اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں ڈبوئے رکھنے کے لئے اپنی نسلوں کو احمدیت اور اسلام پر قائم رکھنے کے لئے ہر احمدی کو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی سختی سے پابندی کرنی چاہئے کہ ﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَئِكَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ۔يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِمُوْا تَسْلِيمًا﴾ (الاحزاب : 57) کہ اے لوگو! جو ایمان لائے ہو تم بھی اس پر دروداور سلام بھیجا کرو کیونکہ اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا، بلکہ اس کے تو کئی حوالے ہیں کہ مجھ پر تو اللہ اور اس کے فرشتوں کا درود بھیجنا ہی کافی ہے تمہیں جو حکم ہے وہ تمہیں محفوظ رکھنے کے لئے ہے۔(بحواله تفسیر در منثور جلد 5 تفسير سورة الاحزاب آیت 57 صفحه 411 صفحه 199) پس ہمیں اپنی دعاؤں کی قبولیت کے لئے اس درود کی ضرورت ہے۔باقی اس آیت اور اس حدیث کا جو پہلا حصہ ہے اس سے اس بات کی ضمانت مل گئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو گرانے اور استہزاء کی چاہے یہ لوگ جتنی مرضی کوشش کر لیں اللہ اور اس کے فرشتے جو آپ پر سلامتی بھیج رہے ہیں ان کی سلامتی کی دعا سے مخالف کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات پر حملوں سے ان کو کبھی کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔اور انشاء اللہ تعالیٰ اسلام نے ترقی کرنی ہے اور دنیا پر غالب آنا ہے اور تمام دنیا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا لہرانا ہے۔اور جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ اس زمانے میں آپ کے عاشق صادق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ مقدر کر چھوڑا ہے۔حضرت مولانا عبدالکریم سیالکوٹی کا ایک حوالہ ہے اقتباس ہے، کہتے ہیں کہ ایک بارمیں نے خود حضرت امام علیہ الصلوۃ والسلام سے سنا آپ فرماتے تھے کہ درود شریف کے طفیل اور کثرت سے یہ درجے خدا نے مجھے عطا کئے ہیں اور فرمایا کہ میں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فیوض عجیب نوری شکل میں آنحضرت kh5-030425