خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 82 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 82

خطبات مسرور جلد چهارم 82 خطبہ جمعہ 10 فروری 2006ء ہے۔فرمایا کہ بہادر وہ ہے جو ایک مستقل ارادہ کر لیتا ہے اور جب تک اسے پورا نہ کرے اس سے پیچھے نہیں ہوتا۔آپ نے فرمایا اسلام کی ترقی کے لئے تین باتوں کا عہد کرو۔پہلی بات یہ کہ آپ خشیت اللہ سے کام لیں گے اور دین کو بے پرواہی کی نگاہ سے نہیں دیکھیں گے۔پہلے خود اپنے عمل ٹھیک کرو۔دوسرے یہ کہ تبلیغ اسلام سے پوری دلچسپی لیں گے۔اسلام کی تعلیم دنیا کے ہر شخص کو پتہ لگے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبیاں، محاسن خوبصورت زندگی پتہ لگے، اُسوہ پتہ لگے۔تیسرے یہ کہ آپ مسلمانوں کو تمدنی اور اقتصادی غلامی سے بچانے کے لئے پوری کوشش کریں گے۔اب ہر ایک مسلمان کا عام آدمی کا بھی لیڈروں کا بھی فرض ہے۔اب دیکھیں باوجود آزادی کے بہ مسلمان ممالک جو آزاد کہلاتے ہیں آزاد ہونے کے باوجود ابھی تک تمدنی اور اقتصادی غلامی کا شکار ہیں۔ان مغربی قوموں کے مرہون منت ہیں ان کی نقل کرنے کی طرف لگے ہوئے ہیں۔خود کام نہیں کرتے زیادہ تر ان پر ہمارا انحصار ہے۔اور اسی لئے یہ وقتاً فوقتاً مسلمانوں کے جذبات سے یہ کھیلتے بھی رہتے ہیں۔پھر آپ نے سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلسے بھی شروع کروائے۔تو یہ طریقے ہیں احتجاج کے، نہ کہ توڑ پھوڑ کرنا فساد پیدا کرنا۔اور ان باتوں میں جو آپ نے مسلمانوں کو مخاطب کی تھیں سب سے زیادہ احمدی مخاطب ہیں۔ان ملکوں کی بعض غلط روایات غیر محسوس طریقے پر ہمارے بعض خاندانوں میں داخل ہو رہی ہیں۔میں احمدیوں کو کہتا ہوں کہ آپ لوگ بھی مخاطب تھے۔یہ جو اچھی چیزیں ہیں ان کے تمدن کی وہ تو اختیار کریں لیکن جو غلط باتیں ہیں ان سے ہمیں بچنا چاہئے۔تو ہمارا ری ایکشن (Reaction) یہی ہونا چاہئے کہ بجائے صرف توڑ پھوڑ کے ہمیں اپنے جائزے لینے کی طرف توجہ پیدا ہونی چاہئے ، ہم دیکھیں ہمارے عمل کیا ہیں ، ہمارے اندر خدا کا خوف کتنا ہے، اس کی عبادت کی طرف کتنی توجہ ہے، دینی احکامات پر عمل کرنے کی طرف کتنی توجہ ہے ، اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کی طرف کتنی توجہ ہے۔پھر دیکھیں خلافت رابعہ کا دور تھا جب رشدی نے بڑی توہین آمیز کتاب لکھی تھی۔اس وقت حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے خطبات بھی دیئے تھے اور ایک کتاب بھی لکھوائی تھی۔پھر جس طرح کہ میں نے کہا یہ حرکتیں ہوتی رہتی ہیں۔گزشتہ سال کے شروع میں بھی اس طرح کا ایک مضمون آیا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بارے میں۔اس وقت بھی میں نے جماعت کو بھی اور ذیلی تنظیموں کو بھی توجہ دلائی تھی کہ مضامین لکھیں خطوط لکھیں، رابطے وسیع کریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی kh5-030425