خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 518
خطبات مسرور جلد چهارم 518 خطبہ جمعہ 13 /اکتوبر 2006 ء 66 وجہ سے بھی اکثر انسان پر مصائب شدائد آ جایا کرتے ہیں بڑی سخت مصیبتیں آجایا کرتی ہیں تو اولاد کے لئے بہت دعا کرنی چاہئے۔فرمایا " تو ان کی اصلاح کی طرف بھی پوری توجہ کرنی چاہئے اور ان کے واسطے بھی دعائیں کرتے رہنا چاہئے۔“ احکم جلد 12 نمبر 16 مورخہ 2 / مارچ 1908 صفحہ 6، ملفوظات جلد پنجم صفحہ 456جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پھر والدین کا وجود ہے، یہ ایسا وجود ہے کہ انسان تمام عمر بھی ان کے احسانوں کا بدلہ نہیں اتار سکتا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ وہ جو کچھ بھی تمہارے ساتھ سلوک کریں، تمہارے سے حتی کریں، نرمی کریں، ہم نے ہر حال میں ان سے نرمی اور محبت کا سلوک کرنا ہے۔تم نے ان کی کسی بری لگنے والی بات پر بھی اُف تک نہیں کہنی۔صبر سے ہر چیز کو برداشت کرنا ہے۔ہمیشہ ان سے نرمی اور پیار کا معاملہ رکھنا ہے کیونکہ تمہارے بچپن میں ان کی جو تمہارے لئے قربانیاں ہیں تم ان کا احسان نہیں اتار سکتے۔اور یہ کہ کر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے لئے اس طرح دعا کیا کرو کہ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيْنِي صَغِيرًا ( بنی اسرائیل :25) که اے میرے رب ان دونوں پر رحم کر جس طرح ان دونوں نے بچپن میں میری تربیت کی تھی۔حدیث میں آتا ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مٹی میں ملے اس کی ناک مٹی میں ملے اس کی ناک۔یہ الفاظ آپ نے تین دفعہ دہرائے۔یعنی ایسا شخص قابل مذمت ہے، بڑا بد بخت اور بد قسمت ہے۔لوگوں نے عرض کی کونسا شخص ؟ تو آپ نے فرمایاوہ شخص جس نے اپنے بوڑھے ماں باپ کو پایا اور ان کی خدمت کر کے جنت میں داخل نہ ہوسکا۔(مسلم کتاب البر والصلة باب رغم انف من ادرك ابويه ایک دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ جس نے رمضان پایا اور اپنے گناہ نہ بخشوائے اور والدین کو پایا اور اپنی بخشش کے سامان نہ کروائے۔( سنن ترمذى كتاب الدعوات باب قول رسول اله رغم انف رجل آپ سے ایک مرتبہ پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ حسن سلوک کا مستحق کون ہے؟ آپ نے فرمایا تیری ماں۔پھر پوچھنے والے نے پوچھا، سب سے زیادہ حسن سلوک کا مستحق کون ہے؟ آپ نے فرمایا تیری ماں۔پھر تیسری دفعہ پوچھا آپ نے فرمایا تیری ماں اور چوتھی دفعہ پوچھنے پرفرمایا تیرا باپ۔(بخاری كتاب الادب باب من احق الناس بحسن الصحبة تو اس بات کو ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ ماں باپ کے احسانوں کا ایک انسان بدلہ نہیں اتار سکتا لیکن دعا اور حسن سلوک ضروری ہے۔اس سے کچھ حد تک آدمی اپنے فرائض کو ادا کر سکتا ہے اور اسی سے بخشش ہے۔اس ضمن میں ایک بات یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ جب معاشرے میں برائیاں پھیلتی ہیں تو پھر ہر طرف kh5-030425