خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 516
خطبات مسرور جلد چہارم 516 خطبہ جمعہ 13 /اکتوبر 2006ء کا قرب حاصل کرنے کیلئے وہ نمونے حاصل کرنے چاہئیں، وہ طریق اختیار کرنے چاہئیں جو ایسے احمدی کے ہیں جن کو دیکھ کر لوگوں کو خدا یاد آتا ہے۔ایک احمدی پر اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا احسان اور انعام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کی تصدیق کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں شامل ہونا بھی ہے اور پھر آپ کی جماعت میں شامل ہو کر ہمیں اللہ تعالیٰ نے اس انعام سے بھی نوازا ہے جس کا گزشتہ پندرہ سو سال سے مسلمان انتظار کر رہے ہیں اور جس کی عدم موجودگی کی وجہ سے، جس کے مسلمانوں میں قائم نہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کا شیرازہ بکھرا ہوا ہے، تفرقہ پڑا ہوا ہے اور وہ آپس میں بکھرے ہوئے ہیں۔باوجود اس کے کہ مسلمانوں کے پاس حکومتیں بھی ہیں ، تیل کی دولت بھی ہے، دوسرے قدرتی وسائل بھی ہیں لیکن غیروں نے انکو اپناز سرنگیں کیا ہوا ہے۔ہر ملک کا دوسرے ملک کے خلاف ایسا رویہ ہوتا ہے کہ جس طرح دو دشمنوں کا ہے، رنجشیں ہیں، مسلمان ملکوں میں آپس میں رنجشیں بڑھتی چلی جارہی ہیں، ہر فرقہ دوسرے فرقے کی گردنیں مارنے پر ہر وقت تیار بیٹھا ہے، ایک دوسرے کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، علماء مسلمانوں کی غلط رہنمائی کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اسلام میں اتنی خوبصورت تعلیم دی ہوئی ہے لیکن اسکے باوجود مسلمانوں کی یہ حالت کیوں بنی ہوئی ہے؟ صرف اسلئے کہ آنے والے مسیح و مہدی کے انکاری ہیں۔پس ایک احمدی کو اللہ تعالیٰ کے اس انعام پر شکر گزار ہونا چاہئے کہ آج دنیا میں ایک احمدی کی پہچان مختلف رنگ میں ہے۔احمدی جہاں بھی ، جب بھی شرفاء میں تعارف حاصل کرتا ہے اور اسلام کی تعلیم کے صحیح پہلو سامنے رکھتا ہے تو ہر جگہ اس کی عزت کی جاتی ہے۔پس اس عزت اور اللہ تعالیٰ کے اس انعام پر احمدی کو شکر گزار ہونا چاہئے اور یہ شکر گزاری اللہ تعالی کے فضل۔پھر مزید نیکیوں کی توفیق بھی دیتی ہے اور نیک اعمال پھر اللہ تعالیٰ کے قرب کے معیار مزید بڑھانے میں مدد دیتے ہیں اور اس طرح ایک بچے احمدی کا محور صرف اور صرف خدا تعالی کی ذات رہ جاتا ہے جو انسان کی پیدائش کا مقصد ہے۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو نیک اعمال بجالانے اور شکر گزاری کی توفیق عطا فرمائے۔پھر دوسری دعا جو میں نے لی ہے یہ اولاد کے بارے میں ہے۔ہر مرد عورت کی جب شادی ہوتی ہے تو اس کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے اولاد ہو۔اگر شادی کو کچھ عرصہ گزر جائے اور اولاد نہ ہو تو بڑی پریشانی کا اظہار ہو رہا ہوتا ہے۔مجھے بھی احمدیوں کے کئی خط روزانہ آتے ہیں جن میں اس پریشانی کا اظہار ہوتا ہے، دعا کے لئے کہتے ہیں۔لیکن ایک احمدی کو ہمیشہ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اولاد کی خواہش ہمیشہ اس دعا کے ساتھ کرنی چاہئے کہ نیک صالح اولاد ہو جو دین کی خدمت کرنے والی ہو اور اعمال صالحہ بجالانے والی ہو۔اس کے لئے سب سے ضروری بات والدین کے لئے یہ ہے کہ وہ خود بھی اولاد کے لئے دعا kh5-030425