خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 514
514 خطبات مسرور جلد چهارم خطبہ جمعہ 13 /اکتوبر 2006 ء سے بڑھ کر قبولیت کا درجہ حاصل ہوا۔آپ ہی تھے جن کو اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگنے کے سب سے زیادہ آداب اور صحیح طریق آتے تھے۔یا پھر جماعت میں رائج بعض ایسی دعا ئیں بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہاما فرما ئیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ اس کے بتائے ہوئے راستے اختیار کرتے ہوئے اپنے لئے بھی ، اپنے عزیزوں کے لئے بھی، اولاد کے لئے بھی اور جماعت کے لئے بھی دعائیں کرنے کی توفیق پانے والے ہوں اور ہماری یہ دعائیں قبولیت کا درجہ پانے والی بھی ہوں۔ہماری ان دعاؤں کا سلسلہ عارضی اور رمضان کے بعد ختم ہونے والا نہ ہو یا اپنے مقصد کو جس کے لئے دعائیں کی جارہی ہیں حاصل کرنے کے بعد ہم دعائیں کرنی بند نہ کر دیں۔یہ نہ ہو کہ جب ہم مشکل میں ہوں تو دعائیں کرنے والے اور بے چین ہو ہو کر دعا کے لئے خط لکھنے والے ہوں ( بعض لوگ مجھے خط لکھتے ہیں ) اور جب اللہ تعالیٰ اس مشکل سے نکال دے تو پھر نمازوں کا بھی خیال نہ رہے۔ایک احمدی نے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں شامل ہوا ہے اس طرز پر نہیں چلنا ، اس طرز پر اپنی زندگی نہیں گزارنی کہ کام نکل گیا تو اللہ تعالیٰ کو بھول گئے ، رمضان ختم ہو گیا تو نمازوں اور دعاؤں کی طرف توجہ نہ رہی۔ہماری دعائیں ہمیشہ اور مستقل رہنے والی دعائیں ہونی چاہئیں ، ہر دن ہر احمدی کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان اور قبولیت دعا پر یقین میں بڑھاتے چلے جانے والا ہونا چاہئے۔احمدی کے قدم نیکیوں میں ایک جگہ رک نہیں جانے چاہئیں۔بلکہ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَات کے مضمون کو سمجھتے ہوئے ، نیکیوں کو سمجھتے ہوئے نیکیوں میں آگے سے آگے قدم بڑھانے والا ہونا چاہئے۔ہر معاملے میں نظر اللہ تعالیٰ کی طرف ہونی چاہئے کیونکہ مومن وہی ہے جس کو اللہ تعالیٰ کے انعاموں پر بھی اور اللہ تعالیٰ کے احسانوں پر بھی اللہ تعالیٰ کے حضور مزید جھکنے والا ہونا چاہئے اور اگر کوئی امتحان آئے تو تب بھی اللہ تعالیٰ کے حضور ہی جھکنا چاہئے۔ایک مومن کی یہ شان نہیں ہے کہ جس طرح وہ کہتے ہیں نافصلی بٹیرے یا فصلی کو ے کہ جب فصل ہوتی ہے تو نیچے آ جاتے ہیں، اس کی طرح صرف غرض پر ہی اپنی عبادتوں کی طرف توجہ دینی ہے یا رمضان میں تو اپنے اندر ایک تبدیلی پیدا کر لی اور اس کے بعد بھول جائیں کہ عبادتیں بھی فرض ہیں، اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کر نے بھی ضروری ہیں۔پس ہمیشہ ایک مومن کو شکر گزاری کے جذبات کے ساتھ اللہ تعالی کے حضور جھکنے والا رہنا چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو انعامات سے ہمیشہ نواز تار ہے۔اللہ کرے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس دعا سے حصہ پانے والے ہوں جس میں آپ نے فرمایا کہ میں تو بہت دعا کرتا ہوں کہ میری سب جماعت ان لوگوں میں ہو جائے جو خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور رات کو اٹھ کر زمین پر گرتے ہیں اور روتے ہیں اور خدا کے فرائض کو ضائع نہیں کرتے kh5-030425