خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 321 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 321

خطبات مسرور جلد چهارم 321 خطبہ جمعہ 23 / جون 2006 ء کو ایک ڈائن قرار دیا گیا ہے جو نظر کے ساتھ ہر ایک کا کلیجہ نکال لے گا۔بلکہ معنے حدیث کے یہ ہیں کہ اس کے نَفَحَاتِ طَيِّبات یعنی کلمات اس کے جہاں تک زمین پر شائع ہوں گے تو چونکہ لوگ ان کا انکار کریں گے اور تکذیب سے پیش آئیں گے اور گالیاں دیں گے اس لئے وہ انکار موجب عذاب ہو جائے گا۔یہ حدیث بتلا رہی ہے کہ مسیح موعود کا سخت انکار ہو گا جس کی وجہ سے ملک میں مری پڑے گی اور سخت سخت زلزلے آئیں گے اور امن اٹھ جائے گا۔ورنہ یہ غیر معقول بات ہے کہ خوانخواہ نیکوکار اور نیک چلن آدمیوں پر طرح طرح کے عذاب کی قیامت آوے۔یہی وجہ ہے کہ پہلے زمانوں میں بھی نادان لوگوں نے ہر ایک نبی کو منحوس قدم سمجھا ہے اور اپنی شامت اعمال ان پر تھاپ دی ہے۔مگر اصل بات یہ ہے کہ نبی عذاب کو نہیں لاتا بلکہ عذاب کا مستحق ہو جانا اتمام حجت کے لئے نبی کو لاتا ہے اور اس کے قائم ہونے کے لئے ضرورت پیدا کرتا ہے۔اور سخت عذاب بغیر نبی کے قائم ہونے کے آتا ہی نہیں۔جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُوْلًا ) (بنی اسرائیل : 16 )۔پھر یہ کیا بات ہے کہ ایک طرف تو طاعون ملک کو کھا رہی ہے اور دوسری طرف ہیبتناک زلزلے پیچھا نہیں چھوڑتے۔اے غافلو ! تلاش تو کرو شاید تم میں خدا کی طرف سے کوئی نبی قائم ہو گیا ہے جس کی تم تکذیب کر رہے ہو۔بغیر قائم ہونے کسی مُرسَلِ الہی کے یہ وبال تم پر کیوں آ گیا جو ہر سال تمہارے دوستوں کو تم سے جدا کرتا اور تمہارے پیاروں کو تم سے علیحدہ کر کے داغ جدائی تمہارے دلوں پر لگاتا ہے۔آخر کچھ بات تو ہے۔کیوں تلاش نہیں کرتے۔(تجلیات الہیہ۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 399-401 ) ہر ملک میں دیکھ لیں آج کل زلزلے آ رہے ہیں، آفتیں آ رہی ہیں ، اس بیماری کی وجہ سے موتیں ہورہی ہیں۔اب لاکھوں تک پہنچ چکی ہیں۔پھر جیسا کہ میں نے کہا تھا اللہ تعالیٰ کے آپ کی تائید و نصرت میں علمی نشان بھی ہیں۔ایک مضمون لکھوایا جس میں قرآن کریم کے معجزات آپ نے بیان فرمائے اور پہلے سے اعلان فرما دیا کہ کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اور پھر دنیا نے دیکھا کہ کس شان سے اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا فرماتے ہوئے آپ کی مدد فرمائی۔اس مضمون کے بارے میں پہلے ہی آپ نے ایک اشتہار شائع فرما دیا تھا جو یوں تھا کہ: ”سچائی کے طالبوں کے لئے ایک عظیم الشان خوشخبری۔جلسہ اعظم مذاہب جو لا ہور ٹاؤن ہال میں 26-27-28 دسمبر 1896ء کو ہو گا اس میں اس عاجز کا ایک مضمون قرآن شریف کے کمالات اور معجزات کے بارہ میں پڑھا جائے گا۔یہ وہ مضمون ہے۔جو انسانی طاقتوں سے برتر اور خدا کے نشانوں میں kh5-030425