خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 314
314 خطبہ جمعہ 23 / جون 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم ہم کا فرنعمت ہوں گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اسی نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اسی کامل نبی کے ذریعہ سے اور اس کے نور سے ملی ہے اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اس کا چہرہ دیکھتے ہیں اسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں میسر آیا ہے۔اس آفتاب ہدایت کی شعاع دھوپ کی طرح ہم پر پڑتی ہے اور اسی وقت تک ہم منور رہ سکتے ہیں جب تک کہ ہم اس کے مقابل پر کھڑے ہیں“۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحه (119) پھر آپ فرماتے ہیں: ”جو شخص اس زمانے میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتا ہے وہ بلا شبہ قبر میں سے اٹھایا جاتا ہے اور ایک روحانی زندگی اس کو بخشی جاتی ہے نہ صرف خیالی طور پر بلکہ آثار صحیحہ صادقہ اس کے ظاہر ہوتے ہیں اور آسمانی مد دیں اور سماوی برکتیں اور روح القدس کی خارق عادت تائید میں اس کے شامل حال ہو جاتی ہیں اور وہ تمام دنیا کے انسانوں میں سے ایک متفر دانسان ہو جاتا ہے۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد نمبر 5 صفحہ (221) پس اس زمانے میں یہ منفر دانسان جس کے ساتھ اس تعلق کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی تائیدات اور نصرتیں شامل حال رہیں اور ہر ہر قدم پر اللہ تعالیٰ نے جو غیر معمولی اور خارق عادت نشانات دکھائے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں اور جیسا کہ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اپنی نصرت کے جو بھی نظارے دکھائے اور جو آج تک دکھاتا چلا جارہا ہے یہ سب کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی وجہ سے ہے۔اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اور آپ کی جماعت کے ساتھ بھی اپنی نصرت دکھانے کا وعدہ ہے اور جب تک ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے رہیں گے اور آپ کے ساتھ بے تعلق اور عشق کو قائم رکھیں گے اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان برکات سے ہمیشہ فیض پہنچا تار ہے گا اور اپنی نصرت کے دروازے بھی ہم پر کھولے گا۔انشاء اللہ۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت معاویہ بن مُرّہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے مدد پا تا رہے گا۔جو بھی انہیں چھوڑے گا وہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔خدا تعالیٰ کا میری امت سے یہ سلوک قیامت تک جاری رہے گا۔ابن ماجه باب اتباع سنة رسول الله الا الله حدیث نمبر (6) اور یہ گروہ یقیناً آخرین کا گروہ ہے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا ہے۔پس kh5-030425