خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 240
خطبات مسرور جلد چهارم 240 خطبہ جمعہ 12 مئی 2006 ء دنیا کے کیڑے نہیں ہیں۔اور میں امید رکھتا ہوں کہ یہ میری دعائیں خدا تعالیٰ قبول کرے گا اور مجھے دکھائے گا کہ اپنے پیچھے میں ایسے لوگوں کو چھوڑتا ہوں“۔( مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 619،اشتہار 16 اکتوبرح 1903 جدید ایڈیشن مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس ربوہ ) خدا کرے کہ ہم میں سے ہر ایک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس خواہش اور دعا سے حصہ پانے والا ہو۔اور اگر کوئی کمزوریاں اور کمیاں ہیں تو اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے ، اللہ تعالیٰ ہمیں دور کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کے جو یہاں دو دن ہیں جن میں آپ اکٹھے ہو رہے ہیں، یہ خاص طور پر دعاؤں میں گزاریں اور اللہ سے بہت مدد مانگیں تا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے نفسوں کو پاک کرنے کے ساتھ ساتھ اسلام کے خوبصورت پیغام کو بھی اس علاقے میں پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔حضور انور نے خطبہ ثانیہ کے درمیان میں فرمایا کہ نماز جمعہ اور عصر کے بعد میں دو جنازے غائب پڑھاؤں گا۔ایک جنازہ غائب ہے ایک شہید کا۔دو دن ہوئے سانگھڑ کے ہمارے ایک احمدی ڈاکٹر مجیب الرحمن پاشا صاحب اپنے کلینک کے باہر کھڑے تھے کہ انہیں نامعلوم افراد نے آکے فائر کر کے شہید کر دیا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔کوئی موٹر سائیکل پر آیا۔اس نے منہ ڈھانکا ہوا تھا۔فائر کر کے دوڑ گیا۔سر پر زخم آیا جس سے ڈاکٹر صاحب جانبر نہ ہو سکے۔تو ایک تو ان کی نماز جنازہ ہے۔آپ بڑے کم گو اور خدمت کرنے والے اور چندوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تھے۔دوسرا جنازہ غائب جو میں کسی وجہ سے پڑھا نہیں سکا ہوں۔چند مہینے پہلے میری ممانی صاحبزادی محمودہ بیگم صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب کی وفات ہوئی تھی۔آپ حضرت نواب محمد علی خان صاحب اور حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کی بیٹی تھیں۔مختلف جگہوں پر لجنہ میں ان کو خدمات کی توفیق ملی۔بڑی ملنسار خاتون تھیں۔اللہ تعالیٰ ان سے بھی مغفرت کا سلوک فرمائے۔ان دونوں کے جنازہ غائب ہوں گے۔kh5-030425