خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 181 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 181

خطبات مسرور جلد چہارم 181 خطبہ جمعہ 7 / اپریل 2006 ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : یا در کھونری بیعت سے کچھ نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ اس رسم سے راضی نہیں ہوتا جب تک کہ حقیقی بیعت کے مفہوم کو ادا نہ کرے اور اس وقت تک یہ بیعت ، بیعت نہیں نری رسم ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ بیعت کے حقیقی منشاء کو پورا کرنے کی کوشش کرو۔یعنی تقوی اختیار کرو، قرآن شریف کو خوب غور سے پڑھو اور اس پر تدبر کرو اور پھر عمل کرو۔کیونکہ سنت اللہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نرے اقوال اور باتوں سے کبھی خوش نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حاصل کرنے کے واسطے ضروری ہے کہ اس کے احکام کی پیروی کی جاوے۔اور اس کے نواہی سے بچتے رہو۔اور یہ ایک ایسی صاف بات ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان بھی نری باتوں سے خوش نہیں ہوتا بلکہ وہ بھی خدمت ہی سے خوش ہوتا ہے۔سچے مسلمان اور جھوٹے مسلمان میں یہی فرق ہوتا ہے کہ جھوٹا مسلمان باتیں بناتا ہے کرتا کچھ نہیں۔اور اس کے مقابلہ میں حقیقی مسلمان عمل کر کے دکھاتا ہے، باتیں نہیں بناتا۔پس جب اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے کہ میرا بندہ میرے لئے عبادت کر رہا ہے اور میرے لئے میری مخلوق پر شفقت کر رہا ہے تو اُس وقت اپنے فرشتے اُس پر نازل کرتا ہے اور سچے اور جھوٹے مسلمان میں جیسا کہ اُس کا وعدہ ہے فرقان رکھ دیتا ہے۔( ملفوظات جلد نمبر 3 صفحہ 615 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس ہر احمدی کا فرض ہے کہ وہ سچا مسلمان بننے کی کوشش کرے۔یہ جو اللہ تعالیٰ نے نعمتیں دنیا میں پیدا کی ہیں ان سے فائدہ اٹھانے سے منع نہیں فرمایا بلکہ یہ سب اس زمانے کی ایجادیں یہ مسیح محمدی کی آمد کی نشانیوں میں سے نشانیاں ہیں۔قرآن کریم بھی اس زمانے کی ایجادوں کی گواہی دیتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ یہ ہوں گی۔اور حدیثوں میں بھی اس زمانے کی ایجادوں کی پیشگوئی کی گئی ہے لیکن ایک احمدی کو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے اس بات کا خیال رکھنا ہے کہ تقویٰ اختیار کرے اور صرف اور صرف دنیاوی مادی چیزوں کے پیچھے ہی نہ پڑار ہے۔ورنہ اگر ایک احمدی، احمدی ہونے کے بعد تقویٰ اختیار نہیں کرتا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ایسے احمدی ہونے کا کیا فائدہ کہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی بھی مول لی اور غیروں کی دشمنی بھی مول لی۔پس میں دوبارہ کہتا ہوں کہ آپ لوگ خوش قسمت ہیں جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کو پورا کرنے کی توفیق نصیب ہوئی اور آپ لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا۔آپ میں سے کئی لوگوں کو احمد بیت اپنے ماں باپ سے وراثت میں ملی ہے۔اس لئے شاید یہ احساس نہ ہو کہ ان لوگوں نے جنہوں نے شروع میں احمدیت قبول کی تھی کتنی قربانیاں دی ہیں۔اسی طرح kh5-030425