خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 140 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 140

خطبات مسرور جلد چهارم 140 خطبہ جمعہ 10 / مارچ 2006ء سے فضا کو مکدر کیا جائے۔آپ نے اس یہودی کی بات سن کر مسلمان کی ہی سرزنش کی کہ تم لوگ اپنی لڑائیوں میں انبیاء کو نہ لایا کرو۔ٹھیک ہے تمہارے نزدیک میں تمام رسولوں سے افضل ہوں۔اللہ تعالٰی بھی اس کی گواہی دے رہا ہے لیکن ہماری حکومت میں ایک شخص کی دلآ زاری اس لئے نہیں ہونی چاہئے کہ اس کے نبی کو کسی نے کچھ کہا ہے۔اس کی میں اجازت نہیں دے سکتا۔میرا احترام کرنے کیلئے تمہیں دوسرے انبیاء کا بھی احترام کرنا ہوگا۔تو یہ تھے آپ کے انصاف اور آزادی اظہار کے معیار جو اپنوں غیروں سب کا خیال رکھنے کیلئے آپ نے قائم فرمائے تھے۔بلکہ بعض اوقات غیروں کے جذبات کا زیادہ خیال رکھا جاتا تھا۔آپ کے انسانی اقدار قائم کرنے اور آپ کی رواداری کی ایک اور مثال ہے۔روایت میں آتا ہے عبدالرحمن بن ابی لیلہ بیان کرتے ہیں کہ سہل بن حنیف اور قیس بن سعد قادسیہ کے مقام پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا۔تو وہ دونوں کھڑے ہو گئے۔جب ان کو بتایا گیا کہ یہ ذمیوں میں سے ہے تو دونوں نے کہا کہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ احتراماً کھڑے ہو گئے۔آپ کو بتایا گیا کہ یہ تو ایک یہودی کا جنازہ ہے۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اليْسَتْ نَفْسًا کیا وہ انسان نہیں ہے۔(بخاری کتاب الجنائز باب من قام لجنازة يهودى حديث نمبر (1312) پس یہ احترام ہے دوسرے مذہب کا بھی اور انسانیت کا بھی۔یہ اظہار اور یہ نمونے ہیں جن سے مذہبی رواداری کی فضا پیدا ہوتی ہے۔یہ اظہار ہی ہیں جن سے ایک دوسرے کے لئے نرم جذبات پیدا ہوتے ہیں اور یہ جذبات ہی ہیں جن سے پیار، محبت اور امن کی فضا پیدا ہوتی ہے۔نہ کہ آجکل کی دنیا داروں کے عمل کی طرح کہ سوائے نفرتوں کی فضا پیدا کرنے کے اور کچھ نہیں۔پھر ایک روایت میں آتا ہے فتح خیبر کے دوران تو راۃ کے بعض نسخے مسلمانوں کو ملے۔یہودی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ ہماری کتاب مقدس ہمیں واپس کی جائے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کوحکم دیا کہ یہود کی مذہبی کتابیں ان کو واپس کر دو۔(السيرة الحلبية باب ذكر مغازيه ذكر غزوہ خیبر جلد 3صفحه 49) باوجود اس کے کہ یہودیوں کے غلط رویے کی وجہ سے ان کو سزائیں مل رہی تھیں آپ نے یہ برداشت نہیں فرمایا کہ دشمن سے بھی ایسا سلوک کیا جائے جس سے اس کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچے۔یہ چند انفرادی واقعات میں نے بیان کئے ہیں اور میں نے ذکر کیا تھا کہ مدینہ میں ایک معاہدہ ہوا تھا۔اُس معاہدے کے تحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شقیں قائم فرمائی تھیں، جو روایات پہنچی ہیں ان kh5-030425