خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 773 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 773

14 احادیث الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانًا بَعْدَ صفحه || احادیث الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هذَا وَرَزَقَنِيْهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي اذْهَبَ عَنِّي قُوَّةٍ غُفِرَلَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ۔مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُوْر۔الأذى وَعَافَانِي 199 ہے۔جو چھوٹی بات پر شکر نہیں کرتا وہ بڑی ہوا۔آپ نے فرمایا کیا میں خدا کا عبد نعمت پر بھی شکر ادا نہیں کرتا۔شکور نہ بنوں۔شوری رمشوره جو مشورہ کرے گا وہ رشد و ہدایت خدا تعالیٰ کی طرف سے شفاعت کی اجازت ملنے پر بار بار سجدات شکر بجالانا۔201 سے محروم نہیں رہے گا۔۔میں نے آنحضور سے زیادہ اپنے صفحہ 179 جبریل کی طرف سے خوشخبری سننے پر آپ نے قبرستان میں ایک لمبا سجدہ شکر اصحاب سے کسی کو مشورہ کر نیوالا نہیں پایا 180 ادا کیا۔202۔جن امور کے بارے مجھے وحی نہیں ہوتی ان میں میں تمہاری طرح ہی ہوتا ہوں۔۔یوم عاشورہ کو آپ نے فرعون سے ا۔واقعہ افک کے سلسلے میں آنحضور حضرت موسیٰ کی نجات کے شکرانہ کے طور نے عائشہ کے بارے میں مشورہ طلب فرمایا 181 پر روزہ رکھا اور امت کو حکم دیا۔فتح مکہ کے دن حضور نے تواضع اور مشورہ طلب کیا اور ابوبکر کے مشورہ پر عمل کیا۔187 شکر گزاری سے اپنا سر جھکایا دیا۔* اللَّهُمَّ احْفَظْ اَبَا أَيُّوبَ كَمَا 203 207۔آپ نے اسیران بدر کے سلسلہ میں۔میں عمر کا مشورہ قبول کرتا ہوں۔188 جنگ اُحد کے سلسلہ میں مشورہ دینے والوں میں عبداللہ بن ابی بن سلول بھی۔صلح حدیبیہ کے سلسلہ میں آنحضور شریک تھا۔فرمایا: قرض دینے کا بدلہ شکریہ بَاتَ يَحْفَظُنِي۔کے ساتھ ادا ئیگی ہے۔208 207 الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي بِنِعْمَتِهِ تَتِمُ الصَّالِحَاتُ۔189 208 نے مشورہ سے اپنے اونٹ کو ذبح کیا فرمایا: جس سے مشورہ لیا جاتا ہے وہ امین ہوتا ہے۔192 193 ** اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَ یں۔فرمایا: مجھدار اور عبادت گزارلوگوں سے 209 مشورہ کرو اور مخصوص افراد کی رائے پر نہ چلو۔// شُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ