خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 686
خطبات مسرور جلد سوم 686 خطبہ جمعہ 25 /نومبر 2005ء جو اس کے ساتھ اتارا گیا یہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔دنیا کی ہر قوم اور ہر ملک کے رہنے والوں کے بعض رسم و رواج ہوتے ہیں اور اُن میں سے ایک قسم جو رسم و رواج کی ہے وہ ان کی شادی بیاہوں کی ہے چاہے عیسائی ہوں یا مسلمان یا کسی اور مذہب کے ماننے والے۔ہر مذہب کے ماننے والے کا اپنے علاقے ، اپنے قبیلے کے لحاظ سے خوشی کی تقریبات اور شادی بیاہ کے موقع پر خوشی کے اظہار کا اپنا اپنا طریقہ ہے۔اسلام کے علاوہ دوسرے مذہب والوں نے تو ایک طرح ان رسم و رواج کو بھی مذہب کا حصہ بنالیا ہے۔جس جگہ جاتے ہیں ، عیسائیت میں خاص طور پر ، ہر جگہ ہر علاقے کے لوگوں کے مطابق ان کے جو رسم و رواج ہیں وہ تقریباً حصہ ہی بن چکے ہیں۔یا بعض ایسے بھی ہیں جو رسم و رواج کی طرف سے آنکھ بند کر لیتے ہیں۔لیکن اسلام جو کامل اور مکمل مذہب ہے، جو باوجود اس کے کہ اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ خوشی کے مواقع پر بعض باتیں کر لو۔جیسے مثلاً روایت میں آتا ہے کہ حضرت عائشہ نے ایک دفعہ ایک عورت کو دلہن بنا کر ایک انصاری کے گھر بھجوایا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ اے عائشہ رخصتانہ کے موقع پر تم نے گانے بجانے کا انتظام کیوں نہیں کیا ؟ حالانکہ انصاری شادی کے موقع پر اس کو پسند کرتے ہیں۔ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ نکاح کا اچھی طرح اعلان کیا کرو اور اس موقع پر چھاننی بجاؤ۔یہ دف کی ایک قسم ہے۔لیکن اس میں بھی آپ نے ہماری رہنمائی فرما دی ہے اور بالکل مادر پدر آزاد نہیں چھوڑ دیا۔بلکہ اس گانے کی بھی کچھ حدود مقرر فرمائی ہیں کہ شریفانہ حد تک ان پر عمل ہونا چاہئے اور شریفانہ اہتمام ہو، ہلکے پھلکے اور اچھے گانوں کا۔ایک موقعہ پر آپ نے خود ہی خوشی کے اظہار کے طور پر شادی کے موقع پر بعض الفاظ تر تیب فرمائے کہ اس طرح گایا کرو کہ آتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيَّانَا فَحَيَّاكُمْ یعنی ہم تمہارے ہاں آئے ہمیں خوش آمدید کہو۔تو ایسے لوگ جو سمجھتے ہیں کہ ہر قسم کی اوٹ پٹانگ حرکتیں کرو، شادی کا موقعہ ہے کوئی حرج نہیں، ان کی غلط سوچ ہے۔بعض دفعہ ہمارے ملکوں میں شادی کے موقعوں پر ایسے ننگے اور گندے گانے لگا دیتے ہیں کہ ان کو سن کر شرم