خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 477 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 477

خطبات مسرور جلد سوم 477 (31) خطبه جمعه 12 اگست 2005 ء آنحضرت صلی للہا علم کی سیرت طیبہ سادگی ، مسکینی اور قناعت پسندی خطبه جمعه فرموده 12 اگست 2005ء بمقام مسجد بیت الفتوح ،لندن۔برطانیہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔پھر فرمایا :۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک حسین پہلو سادگی ہمسکینی اور قناعت بھی تھا۔جس کی آپ نے ہمیں تعلیم بھی دی اور اپنے عمل سے مثالیں بھی قائم فرما ئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: آنحضرت علی اللہ کی یہ شان ہے وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ ﴾ (ص: 87) یعنی میں تکلف کرنے کا عادی نہیں ہوں۔آپ کے قول کے ساتھ ساتھ آپ کا ہر فعل بھی تصنع اور بناوٹ سے پاک تھا، تکلف سے پاک تھا۔ہر عمل میں سادگی بھری ہوئی تھی۔اور تصنع اور تکلف سے پاک زندگی کا اتنا اونچا معیار تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے یہ اعلان کروایا۔اللہ تعالیٰ نے جو دلوں کو جانتا ہے، جس نے آپ کو مبعوث فرمایا ، آپ پر شریعت اتاری، آپ سے یہ اعلان کروایا کہ دنیا کو بتا دو کہ میں تمام تر تکلفات سے پاک ہوں۔میری زندگی میں سادگی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے جو دنیا کی نعمتیں عطا فرمائی ہیں ان کو کبھی استعمال کرنے کی ضرورت ہو تو استعمال تو کرتا ہوں لیکن وہی زندگی کا مقصود و مطلوب نہیں ہیں بلکہ ان کا استعمال بھی اللہ تعالیٰ کے حکم تحدیث نعمت کی وجہ سے ہی ہے۔اور اگر مجھے کوئی چیز پسند ہے، اگر کوئی میری مرغوب چیز ہے، اگر میرا کوئی مطلوب و مقصود ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی