خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 948 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 948

خطبات مسرور 948 ہے اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ مزید ذرا وضاحت کھول کر کر دی جائے۔$2004 پہلی بات تو یہ ہے کہ عہدیدار اس بات کو یا درکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو یہ حکم فرمایا ہے کہ وَالْكَاظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ (آل عمران: 135 ) یعنی غصہ دیا جانے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہوں۔تو اس کے سب سے زیادہ مخاطب عہدیداروں کو اپنے آپ کو سمجھنا چاہئے۔کیونکہ ان کی جماعت میں جو پوزیشن ہے جوان کا نمونہ جماعت کے سامنے ہونا چاہئے وہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ مکمل طور پر اپنے آپ کو عاجز بنا ئیں۔اگر اصلاح کی خاطر کبھی غصے کا اظہار کرنے کی ضرورت پیش بھی آ جائے تو علیحدگی میں جس کی اصلاح کرنی مقصود ہو، جس کا سمجھانا مقصود ہو اس کو سمجھا دینا چاہئے۔تمام لوگوں کے سامنے کسی کی عزت نفس کو مجروح نہیں کرنا چاہئے اور ہر وقت چڑ چڑے پن کا مظاہرہ نہیں ہونا چاہئے۔یا کسی بھی قسم کے تکبر کا مظاہرہ نہیں ہونا چاہئے۔اصلاح کبھی چڑنے سے نہیں ہوتی بلکہ مستقل مزاجی سے در در کھتے ہوئے اور دعا کے ساتھ نصیحت کرتے چلے جانے سے ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہی حکم ہے۔اور ایک آدھ دفعہ کی جو غلطی ہے، اگر کوئی عادی نہیں ہے تو اصلاح کا بہترین ذریعہ یہی ہے کہ عفو سے کام لیا جائے۔معاف کر دیا جائے ، درگزر کر دیا جائے۔اس لئے یہاں بھی (مراد فرانس میں ) اور دنیا میں ہر جگہ جہاں جہاں بھی جماعتیں قائم ہیں، جماعتی عہدیدار بھی اور ذیلی تنظیموں کے عہدیدار بھی اپنے رویوں میں ایک تبدیلی پیدا کریں۔لوگوں سے پیار اور محبت کا سلوک کیا کریں۔خاص طور پر بعض جگہ لجنہ کی طرف سے شکایات زیادہ ہوتی ہیں اور ان میں بھی خاص طور پر بچیوں یا نو جوان بچیوں اور نئے آنے والیوں جنہوں نے نظام کو پوری طرح سمجھا نہیں ہوتا، ان کے لئے تربیت کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔اس لئے ان کے لئے بہت خیال رکھنا چاہئے۔کیونکہ تربیت کرنے کی جیسی آپ چھاپ لگا دیں گے بچوں پر بھی اور نئے آنے والوں پر بھی۔آئندہ نمونہ بھی ویسے ہی نکلیں گے، آئندہ عہدیدار بھی ویسے ہی بنیں گے۔تو