خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 819 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 819

$2004 819 خطبات مسرور کاروبار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے اس خاص دن کی عبادت سے غافل ہوں گے وہ پھر جنت کے وارث نہیں بن سکتے۔بلکہ جس طرح آدم کو اللہ تعالیٰ نے جو احکامات دیئے تھے ان پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے جنت سے نکلنا پڑا تھا تو تم بھی یہ نہ سمجھو کہ مسلمان کہلا کر جنت کے وارث کہلا ؤ گے بلکہ احکامات پر عمل کر کے جنت مل سکتی ہے۔اس لئے اپنے باپ آدم کے تجربے سے فائدہ اٹھاؤ اور شیطان سے بچنے کی کوشش کرتے رہو۔اس سے مقابلہ کرو اور ہر جمعہ کو جو تمہیں خدا تعالیٰ نے اکٹھے ہونے کا حکم دیا ہے اس پر عمل کرو اور اس دن کی اہمیت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے یہ سہولت بھی دے دی ہے یا یہ انعام بھی تمہیں دے دیا ہے کہ اس میں ایک ایسا وقت رکھ دیا ہے کہ جب عبادت کے دوران تمہاری دعا کو قبولیت کا شرف اللہ تعالیٰ عطا فرماتا ہے۔اس لئے سال کے بعد نہیں بلکہ ہر ساتویں دن ایک اہتمام کے ساتھ اس کی عبادت کی طرف توجہ دو تو جنت سے نکلنے کی بجائے ، نیک اعمال اور عبادت کی وجہ سے اس جہان میں بھی اور اگلے جہان میں بھی اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق جنتوں کے وارث ٹھہرو گے۔اب دیکھیں جنت سے نکلنے کے ساتھ ہی یہ دو قسمیں بنائی ہیں شیطان سے مقابلہ کی طاقت بھی دے دی ہے اور فرمایا یہ مقابلہ اور شیطان کے خلاف جہاد پھر تمہیں جنت میں داخل کر دے گا۔بلکہ تمہارے لئے دو جنتیں مقرر ہو گئیں اس دنیا کی جنت بھی اور اگلے جہان کی بھی۔پھر عام طور پر کسی اچھی یاد کا یا کسی کی سالگرہ منانی ہو تو سال کے بعد ایک دن آتا ہے یا اگر کسی شیطان صفت سے نجات ملی ہو تو پھر بھی سال گزرنے پر اس دن کا ذکر ہوتا ہے۔لیکن یہاں اللہ تعالیٰ نے سات دن کے بعد یہ ایک دن رکھ دیا ہے یہ یاد کرانے کے لئے کہ میں نے جس دن آدم کو جنت میں داخل کیا تھا تم اس دن کو یاد کرو، اکٹھے ہو کر دعائیں کرو، میرے نبی ﷺ پر درود بھیجو، میرے احکامات کی تعمیل کرو تو ہمیشہ جنت میں رہو گے۔لیکن یہ یاد رکھو کہ اگر یہ نیک کام نہیں کرو گے تو آدم کی طرح جنت سے نکالے بھی جاؤ گے اس لئے ہوش کرو۔اور ساتھ یہ بھی خوشخبری دے دی اس ہدایت کے ساتھ کہ اس میں تمہاری دعائیں تمہاری گریہ وزاری جو تم کرو گے وہ بھی قبول ہو گی ، ایک وقت ایسا آئے گا جو قبولیت کا درجہ پائے گی تا کہ تم جنت سے فائدہ اٹھاتے رہو۔یہ زمین بھی تمہارے لئے جنت بن جائے یہ دنیا بھی