خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 803
$2004 803 خطبات مسرور چندوں میں دے رہی ہوتی ہیں۔اگر ایسی عورتیں ہیں جو اچھے طور پر گھر چلا رہی ہیں، خاوندوں کو بھی ان کی ٹوہ میں نہیں رہنا چاہئے کہ چندہ فلاں جگہ سے تم نے کس طرح دے دیا۔جو دے دیا وہ دے دیا۔اس حدیث کے مطابق ثواب عورت کو بھی مل رہا ہے، آپ کو بھی مل رہا ہے۔اور جن عورتوں کو بچت کی عادت نہیں ہے ان کو بھی بچت کی عادت ڈالنی چاہئے۔بعضوں کو فضول خرچی کی بہت زیادہ عادت ہوتی ہے ان کو اپنے اخراجات کو کم کرنا چاہئے۔دکھاوے کے لئے بلاوجہ گھروں پر خرچ کر رہی ہوتی ہیں۔بعض جیسا کہ میں نے کہا کہ گھروں میں بھی خرچ کرتی ہیں لیکن بچت کر کے کرتی ہیں۔تو چندوں کے ساتھ ساتھ اگر وہ اپنے گھروں میں بھی خرچ کر لیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔لیکن فضول خرچی کر کر کے صرف گھر پر خرچ کئے جانا اور کہہ دینا ہمیں چندے دینے کی توفیق نہیں، یہ غلط ہے۔اور جن ماؤں کو سادگی کی عادت ہوتی ہے اور چندے دینے کی عادت ہوتی ہے تو ان کی اولادوں میں بھی یہ چیز پیدا ہو جاتی ہے۔اور جب وہ اولادیں عملی زندگی میں آتی ہیں تو ان کے ہاتھ میں بھی اللہ تعالیٰ اسی طرح برکت پیدا کر دیتا ہے۔ان کو بھی بہترین انداز میں بہترین رنگ میں گھر چلانے کے ساتھ ساتھ چندے دینے کی توفیق ملتی رہتی ہے۔لیکن یہ بھی ہے یہاں میں بتا دوں کہ بعض گھروں میں کشائش آنے کے ساتھ ساتھ حالات بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ جیسا کہ میں نے کہا فضول خرچی کی عادت پڑ جاتی ہے اور دکھاوے کے لئے خرچ کرنے کا رجحان بڑھتا چلا جاتا ہے۔تو ان لوگوں کو پھر میں کہتا ہوں کہ توجہ کرنی چاہئے۔اپنے اخراجات کم کریں اور سادگی کو اپنا ئیں۔اور پھر اس سادگی کہ وجہ سے مالی قربانیاں کرنے کی توفیق پائیں۔ایک روایت میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک دفعہ اپنی نسبتی ہمشیرہ حضرت اسماء بنت ابو بکر کونصیحت فرمائی کہ اللہ کی راہ میں گن گن کر خرچ نہ کیا کرو۔ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن گن کر ہی دیا کرے گا۔اپنی روپوں کی تھیلی کا منہ بند کر کے نہ بیٹھ جانا ورنہ پھر اس کا منہ بند ہی رکھا جائے گا۔