خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 544
$2004 544 خطبات مسرور بھائی ہوں تو ایسے کام کر لینے چاہئیں۔یہ نہیں ہے کہ کارکن آئے گا تب ہی صفائی ہوگی اور اس کی شکایت میں کروں گا اور انتظامیہ اس سے پوچھے گی تب ہی صفائی ہوگی۔بلکہ چھوٹی موٹی اگر صفائی کی ضرورت ہو تو کر لینی چاہئے۔کیونکہ صفائی کے بارے میں آتا ہے کہ یہ نصف ایمان ہے۔خواتین بھی گھومنے پھرنے میں احتیاط اور پردے کی رعایت رکھیں۔لیکن بعض دفعہ غیر خواتین بھی آئی ہوتی ہیں وہ تو ویسی پابندی نہیں کر رہی ہوتیں، لوگ سمجھتے ہیں کہ جلسے پر آئی ہوئی ساری خواتین احمدی ہیں لیکن بعض غیر احمدی بھی ہوتی ہیں غیر از جماعت ہوتی ہیں تو وہ پابندی نہیں کر رہی ہوتیں۔اس لئے انتظامیہ یہ خیال رکھے کہ عورتوں اور مردوں کے رش کے وقت راستے علیحدہ علیحدہ ہوجائیں۔چھوٹے بچوں میں بھی ان دنوں میں خاص طور پر جماعتی روایات کا خیال رکھتے ہوئے ٹوپی پہنے کی عادت ڈالیں۔ایسے بچے جو نمازیں پڑھنے کی عمر کے ہیں۔اور اس طرح ایسی بچیاں جو اس عمر کی ہیں ان کو سر پر چھوٹا سا دو پٹہ بھی لے دینا چاہئے بجائے اس کے کہ یہاں کے لباس پہن کر پھریں۔بعض دفعہ شکایت آ جاتی ہے گو یہ بہت معمولی ہے ایک آدھ کیس ایسا ہوتا ہوگا کہ بعض لفٹ دینے والے مہمانوں سے پیسے کا مطالبہ کرتے ہیں۔یہ نہیں ہونا چاہئے۔تو مہمانوں کی عزت و اکرام اور خدمت کے بارے میں میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں اس کو خاص اہمیت دیں۔محبت خلوص ایثار اور قربانی کے جذبے کے تحت ان کی خدمت کریں۔یہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمان ہیں ان کے ساتھ نرم لہجہ اور خوشدلی سے بات کریں۔یہ فصیلی ہدایت تو پہلے میں دے چکا ہوں۔جو مہمان آ رہے ہیں وہ بھی یہ خیال رکھیں کہ نظم و ضبط کا خاص خیال رکھیں اور منتظمین جلسہ سے پورا پورا تعاون کریں۔ان کی ہر طرح سے اطاعت کریں۔بعض مائیں اپنے بچوں کی بڑی غیرت رکھتی ہیں کوئی ڈیوٹی والا اگر کسی کو کچھ کہہ دے تو