خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 43
$2004 43 خطبات مسرور تھے۔اور پھر یہ کہ جو خرچ پہلے ہو رہا تھا اس سے کم خرچ پر معاہدہ ہوا۔تو یہاں تو وہی مثال صادق آتی ہے کہے کولات راس آ گئی کہ ٹھیک ہے چار دن کی تکلیف تو برداشت کرنی پڑی ہے لیکن اس سے ہمارے خرچ میں بھی کم آئی اور پھیلاؤ میں بھی زیادتی ہوئی۔تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہماری پردہ پوشی فرماتا رہے اور تائید و نصرت فرماتا چلا جائے۔ایم ٹی اے کے کارکنان جو ہیں یہ اپنے لئے بھی دعا کریں اور جماعت بھی ان کے لئے دعا کرے کہ خدا تعالیٰ ان کو خدمت کا موقع دیتار ہے اور ان کے کام کو مزید جلا بخشے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت محنت اور لگن سے کام کر رہے ہیں۔اور مرکزی ٹیم میں مختلف قوموں کے لوگ ہیں۔عرب بھی ہیں ، بوز نین بھی ہیں، دوسرے یورپ کے لوگ بھی ہیں، پاکستانی قومیت کے لوگ جو یہاں آباد ہوئے ہوئے ہیں وہ بھی ہیں، افریقن بھی ہیں۔تو اس طرح ہر قوم کے لوگ اسی خدمت کے جذبے سے کام کر رہے ہیں۔ایک فکرمندی والی خبر بھی ہے۔بنگلہ دیش میں گزشتہ کچھ عرصہ سے مولویوں نے جماعت کے خلاف فتنہ برپا کیا ہوا تھا اور مساجد پر حملہ وغیرہ بھی ہو رہے تھے۔اسی طرح رمضان میں ایک احمدی کو شہید بھی کر دیا۔اب لگتا ہے کہ حکومت بھی ان مولویوں کا ساتھ دینے پر تلی ہوئی ہے اور احمدیوں کے خلاف کچھ قانون پاس کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ تمام احمدیوں کو اپنی حفاظت میں رکھے اور ثبات قدم عطا فرمائے اور دشمنوں کی تدبیر انہی پر لوٹا دے۔اے اللہ ! تو نے کبھی ہمارا ساتھ نہیں چھوڑا۔آج بھی ہمیں اپنی تائید ونصرت کے نظارے دکھا۔بنگلہ دیش کے احمدیوں کے لئے یہ پیغام ہے کہ صبر ، حوصلہ اور دعا سے کام لیں۔ہمارا سہارا صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔اس کے حضور جھک جائیں اور جھکے رہیں۔یہاں تک کہ اس کی تائید و نصرت کے نظارے نظر آنے شروع ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ ابتلا کا یہ دور لمبا نہ کرے اور دشمنوں کی جلد از جلد پکڑ کرے۔وہاں کی حکومت کو بھی چاہئے کہ ہمسایوں سے سبق لیں اور جو ان کے کام ہیں حکومت چلانے کے وہ چلائیں کسی کے مذہب میں دخل اندازی نہ کریں۔ان کو بھی اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے ڈرنا چاہئے۔⭑⭑⭑⭑⭑