خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 426 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 426

خطبات مسرور $2004 426 تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: انسان دنیا میں مختلف مقاصد کے لئے سفر کرتا ہے اور اس زمانے میں جب سفر کی بہت سی سہولتیں بھی میسر آ گئی ہیں اور ان سفر کی سہولتوں کی وجہ سے فاصلے بھی سمٹ گئے ہیں اور ان سہولتوں اور ان فاصلوں کے سمٹنے کی وجہ سے اکثر لوگ اپنے کاموں کے لئے اکثر سفروں میں رہتے ہیں۔جو 25-20 میل کا فاصلہ پرانے زمانے میں سفر کہلاتا تھا وہ اب سفر نہیں کہلاتا لیکن بہر حال ایک لحاظ سے سفر ہی ہے تو یہ سفر جو مختلف مقاصد کے لئے کئے جاتے ہیں چاہے وہ کاروباری نوعیت کے ہوں چاہے عزیز رشتہ داروں کے ملنے کے لئے ہوں، چاہے تحصیل علم کے لئے ہوں، چاہے اللہ تعالیٰ کی پیدائش پر غور کرنے کے لئے تحقیق کے لئے ہوں، چاہے دینی اغراض کے لئے ہوں جو بھی مقصد ہو مومن کو ہمیشہ یہ پیش نظر رہنا چاہئے کہ ان سفروں میں کبھی بھی ایسا وقت نہ آئے ، چاہے جو بھی مجبوری ہو، کہ اس کا دل تقویٰ سے خالی ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے سے خالی ہو۔آپ لوگ جو یہاں اس وقت بیٹھے ہیں ان میں سے اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جنہوں نے حالات کی مجبوری کے تحت پاکستان سے ہجرت کی اور ایک خطیر رقم خرچ کر کے بہت بڑے اخراجات کر کے اور ایک لحاظ سے اپنے تمام دنیاوی وسائل داؤ پر لگا کر یہاں آ کر اس ملک میں آباد ہوئے۔بہت سے ایسے بھی ہیں جن کو شروع میں آ کر بہت سی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے حالات بہتر بنا دیئے۔پھر ایسے بھی ہیں جن کو یہاں کی حکومت کی پالیسی کی وجہ سے حکومت کے احسان کی وجہ سے یہاں کی شہریت یا کام کرنے کی اجازت مل گئی۔تو