خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 205 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 205

$2004 205 مسرور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ بات یہ ہے کہ جب انسان جذبات نفس۔سے پاک ہوتا ہے اور نفسانیت چھوڑ کر خدا کے ارادوں کے اندر چلتا ہے۔اس کا کوئی فعل ناجائز نہیں ہوتا بلکہ ہر ایک فعل خدا کی منشاء کے مطابق ہوتا ہے جہاں لوگ ابتلاء میں پڑتے ہیں وہاں یہ امر ہمیشہ ہوتا ہے کہ وہ فعل خدا کے ارادہ سے مطابق نہیں ہوتا۔خدا کی رضا اس کے برخلاف ہوتی ہے۔ایسا شخص اپنے جذبات کے نیچے چلتا ہے۔مثلاً غصے میں آ کر کوئی ایسا فعل اس سے سرزد ہو جاتا ہے جس سے مقدمات بن جایا کرتے ہیں۔فوجداریاں ہو جاتی ہیں۔مگر اگر کسی کا ارادہ ہو تو بلا استصواب کتاب اللہ ( یعنی اللہ تعالیٰ کے قرآن کریم کے اس حکم کے بغیر ) اس کا حرکت وسکون نہ ہوگا۔اور اپنی ہر ایک بات پر کتاب اللہ کی طرف رجوع کرے گا۔یقینی امر ہے کہ کتاب اللہ مشورہ دے گی جیسے کہ فرمایا وَلَا رَطْبٍ وَّلَايَا بِسِ إِلَّا فِي كِتَبٍ مُّبِيْنٍ (سورۃ الانعام: ۰۶ - سواگر ہم یہ ارادہ کریں کہ مشورہ کتاب اللہ سے لیں گے تو ہم کو ضرور مشورہ ملے گا لیکن جو اپنے جذبات کا تابع ہے وہ ضرور نقصان ہی میں پڑے گا۔بسا اوقات وہ اس جگہ مواخذے میں پڑے گا سواس کے مقابل اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ولی جو میرے ساتھ بولتے چلتے کام کرتے ہیں وہ گویا اس میں محو ہیں۔سو جس قدر محویت میں کم ہے وہ اتنا ہی خدا سے دور ہے۔لیکن اگر اس کی محویت ویسی ہے جیسا کہ خدا نے فرمایا تو اس کے ایمان کا اندازہ نہیں۔ان کی حمایت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مـن عــادلـي ولـيـا فقد اذنته بالحرب (الحدیث) جو شخص میرے ولی کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے وہ میرے ساتھ مقابلہ کرتا ہے اب دیکھ لو تقی کی شان کس قدر بلند ہے اور اس کا پایہ کس قدر عالی ہے جس کا قرب خدا کی جناب میں ایسا ہے اس کا ستایا جانا خدا کا ستایا جانا ہے۔تو خدا اس کا کس قدر معاون و مددگار ہوگا۔لوگ بہت سے مصائب میں گرفتار ہوتے ہیں لیکن متقی بچائے جاتے ہیں بلکہ ان کے پاس جو آتا ہے وہ بھی بچایا جاتا ہے۔مصائب کی کوئی حد نہیں انسان کا اپنا اندر اس قدر مصائب سے بھرا ہوا ہے،اس کا کوئی اندازہ نہیں۔