خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 514
خطبات مس $2003 514 تشھد وتعوذ کے بعد درج ذیل آیت قرآنیہ تلاوت فرمائی فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْلَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكَّلِيْنَ﴾ (سورة آل عمران آیت ۱۶۰) جماعت احمدیہ کا نظام ایک ایسا نظام ہے جو بچپن سے لے کر مرنے تک ہر احمدی کو ایک پیار اور محبت کی لڑی میں پرو کر رکھتا ہے۔بچہ جب سات سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو اسے ایک نظام کے ساتھ وابستہ کر دیا جاتا ہے اور وہ مجلس اطفال الاحمدیہ کا ممبر بن جاتا ہے۔ایک بچی جب سات سال کی عمر کو پہنچتی ہے تو وہ ناصرات الاحمدیہ کی رکن بن جاتی ہے جہاں انہیں ایک ٹیم ورک کے تحت کام کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔پھر انہی میں سے ان کے سائق بنا کر اپنے عہدیدار کی اطاعت کا تصور پیدا کیا جاتا ہے۔پھر پندرہ سال کی عمر کو جب پہنچ جائیں تو بچے خدام الاحمدیہ کی تنظیم میں اور بچیاں لجنہ اماءاللہ کی تنظیم میں شامل ہو جاتی ہیں اور ایک انتظامی ڈھانچے کے تحت بچپن سے تربیت حاصل کر کے اوپر آنے والے بچے اور بچیاں ہیں جب نوجوانی کی عمر میں قدم رکھتے ہیں تو ان نیک تنظیموں میں شامل ہونے سے جماعتی نظام اور طریقوں سے ان کو مزید واقفیت پیدا ہوتی ہے۔اور عمر کے ساتھ ساتھ کیونکہ اب یہ بچے اور بچیاں اس عمر کو پہنچ جاتے ہیں جس میں شعور پیدا ہو جاتا ہے۔اس لئے پندرہ سال کی عمر کے بعد یہ خود بھی اپنے میں سے ہی اپنے عہد یدار منتخب کرتے ہیں اور ان کے تحت ان کی تربیت ہورہی ہوتی ہے اور نظام چل رہا ہوتا ہے۔تو پندرہ سال کی عمر کے بعد جیسا کہ میں نے کہا کہ لجنہ یا خدام میں جا کر یہ لوگ اپنے عہدیدار اپنے میں سے منتخب کرتے ہیں اور پھر