خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 358
358 $2003 خطبات مسرور اللہ کرے جماعت کو ہی موقع ملے کہ اس سے بھی بڑی مسجدیں بنائے لیکن اس وقت تک یہ یورپ کی سب سے بڑی مسجد ہے۔بلکہ اکیسویں صدی کی جدید سہولیات سے بھی آراستہ ہے جسے اسلامی روایات کے تابع اسلامی فن تعمیر کا خاص خیال رکھتے ہوئے تعمیر کیا گیا ہے۔اللہ کرے کہ یہ مسجد ہمیشہ یورپ میں اسلام کی صلح، امن اور آشتی کی خوبصورت تعلیم کا حسین نمونہ پیش کرتی رہے اور نیک فطرت لوگ ایسے لوگ یہاں آئیں جن کے دل میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور تقویٰ ہو اور اگلی نسلوں میں بھی تقویٰ پیدا کرنے والے ہوں اور ان کو خدا سے ملانے والے ہوں۔اور آپ اس ثواب سے بھی حصہ لیں اور اس کے وارث ٹھہریں جس کا ذکر حدیث میں یوں آتا ہے کہ محمود بن لبیب روایت کرتے ہیں کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے (اپنے دور خلافت میں ) مسجد نبوی کی تعمیر نو اور توسیع کا ارادہ فرمایا تو کچھ لوگوں نے اسے ناپسند کیا۔وہ یہ چاہتے تھے کہ اس مسجد کو اس کی اصل حالت میں ہی رہنے دیا جائے۔یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ میں نے تو رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔"مَنْ بَنی مَسْجِدًا لِلَّهِ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ مِثْلَهُ » کہ جس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے مسجد بنائی اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ویسا ہی گھر بنائے گا۔(مسلم، کتاب المساجد، باب فضل بناء المساجد والحث عليها اللہ تعالیٰ ان سب کو اس ثواب کا وارث ٹھہرائے لیکن یہ یاد رکھیں کہ صرف مسجد بنا کر کام ختم نہیں ہو گیا بلکہ یہ بات ہر احمدی کو ہر وقت اپنے ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اس زمانے کے امام کو پہچان کر، اس کی بیعت میں شامل ہو کر ہم ان خوش قسمت لوگوں میں شامل ہو گئے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنا حکم ماننے اور اسے پورا کرنے کی وجہ سے پہلوں سے ملانے کی خوشخبری دی ہے۔لیکن یہ نہ سمجھیں کہ یہ خوشخبری ہمیں مل گئی ہے، آنے والے مسیح کو ہم نے مان لیا اور کام ختم اس لئے ہم ان تمام انعامات کے وارث ٹھہر جائیں گے۔نہیں۔بلکہ ہمیں مستقل کوشش کے ساتھ ، جدوجہد کرتے ہوئے ان مسجدوں کو آباد بھی کرنا ہو گا اور یہاں سے پیار و محبت، رواداری اور بھائی چارے کے پیغام بھی دنیا کو دینے ہوں گے۔مسلسل دعاؤں سے اپنی اصلاح کی طرف بھی توجہ دینی ہوگی اور اپنی نسلوں کی اصلاح کی طرف بھی توجہ دینی ہوگی۔یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں اس میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے انصاف کا حکم