خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page iii of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page iii

وقت کی آواز ہماری خوش نصیبی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں وقت کے امام کو پہچانے کی توفیق دی ، اور اسکا سراسر فضل و احسان ہے کہ ہمیں خلافت کے نظام میں شامل کیا ، ایک خلیفہ عطا کیا جو ہمارے لئے ہمارا در درکھتا ہے ، ہمارے لئے اپنے دل میں پیار رکھتا ہے ،اس خوش قسمتی پر جتنا بھی شکر کیا جائے کم ہے، اس شکر کا ایک طریق یہ بھی ہے کہ ہم خلیفہ وقت کی آواز کو سنیں ،اس کی ہدایات کو سنیں اور اس پر عمل کریں۔کیونکہ اسکی آواز کوسننا باعث ثواب اور اس کی باتوں پر عمل کرنا دین ودنیا کی بھلائی کا موجب ہے۔اس کی آواز وقت کی آواز ہوتی ہے، زمانے کی ضرورت کے مطابق سیالہی بندے بولتے ہیں۔خدائی تقدیروں کے اشاروں کو دیکھتے ہوئے وہ رہنمائی کرتے ہیں۔الہی تائیدات و نصرت ان کے شامل حال ہوتی ہے۔خدائی صفات ان کے اندر جلوہ گر ہوتی ہیں۔" حضرت خلیفہ اسیح الثانی فرماتے ہیں: خدا تعالی جس شخص کو خلافت پر کھڑا کرتا ہے وہ اس کو زمانہ کے مطابق علوم بھی عطا کرتا ہے۔اسے اپنی صفات بخشتا ہے۔“ (الفرقان‘ مئی جون 1967 ءصفحہ 37) پھر فرماتے ہیں : ” خلافت کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ جس وقت خلیفہ کے منہ سے کوئی لفظ نکلے اس وقت سب سکیموں 'سب تجویزوں اور سب تدبیروں کو پھینک کر رکھ دیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ اب وہی سکیم یا وہی تجویز اور وہی تدبیر مفید ہے جس کا خلیفہ وقت کی طرف سے حکم ملا ہے۔جب تک یہ روح جماعت میں پیدا نہ ہو اس وقت تک سب خطبات رائیگاں تمام سکیمیں باطل اور تمام تدبیریں ناکام ہیں۔“ ( خطبہ جمعہ 24 جنوری 1936 ء مندرجہ الفضل 31 جنوری 1936ء)