خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 279
$2003 279 خطبات مسرور سے کرو اور جس قدر دنیا میں کسی سے انسان ڈر سکتا ہے تم اپنے خدا سے ڈرو۔پاک دل ہو جاؤ اور پاک ارادہ اور غریب اور مسکین اور بے شر ا تم پر رحم ہو۔“ (نزول المسيح۔روحانى خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۰۲، ۴۰۳ پھر دوسری بات جو اس شرط میں بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ فروتنی اور عاجزی اور خوش خلقی اور حلیمی اور مسکینی سے زندگی بسر کروں گا۔تو جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ جب آپ اپنے دل و دماغ کو تکبر سے خالی کرنے کی کوشش کریں گے ، خالی کریں گے تو پھر لازماً ایک اعلیٰ وصف ،ایک اعلیٰ صفت ، ایک اعلیٰ خُلق اپنے اندر پیدا کرنا ہوگا ورنہ پھر شیطان حملہ کرے گا کیونکہ وہ اسی کام کے لئے بیٹھا ہے کہ آپ کا پیچھا نہ چھوڑے۔وہ خلق ہے عاجزی اور مسکینی۔اور یہ ہو نہیں سکتا کہ عاجز اور متکبر اکٹھے رہ سکیں۔متکبر لوگ ہمیشہ ایسے عاجز لوگوں پر جو عبادالرحمن ہوں طعنہ زنیاں کرتے رہتے ہیں، فقرے کستے رہتے ہیں تو ایسے لوگوں کے مقابل پر آپ نے ان جیسا رویہ نہیں اپنانا۔بلکہ خدا تعالیٰ کے اس حکم پر عمل کرنا ہے فرمایا: ﴿وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِيْنَ يَمْشُوْنَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُوْنَ قَالُوْا سَلَمًا ﴾ (الفرقان : ۶۳ ) اور رحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر فروشتنی کے ساتھ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو ( جواباً) کہتے ہیں ”سلام“۔حضرت ابوسعید خدری روایت کرتے ہیں کہ آنحضور نے فرمایا جس نے اللہ کی خاطر ایک درجہ تواضع اختیار کی اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ رفع کرے گا یہاں تک کہ اسے علیین میں جگہ دے گا، اور جس نے اللہ کے مقابل ایک درجہ تکبر اختیار کیا تو اللہ تعالیٰ اس کو ایک درجہ نیچے گرا دے گا یہاں تک کہ اسے اسفل السافلین میں داخل کر دے گا۔(مسند احمد بن حنبل باقی مسند المكثرين من الصحابة تو ایسے لوگوں کی مجالس سے سلام کہہ کر اٹھ جانے میں ہی آپ کی بقاء آپ کی بہتری ہے کیونکہ اسی سے آپ کے درجات بلند ہو رہے ہیں اور مخالفین اپنی انہی باتوں کی وجہ سے اسفل السافلین میں گرتے چلے جارہے ہیں۔حدیث میں آیا ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ کا بندہ جتنا کسی کو معاف کرتا ہے اللہ تعالیٰ اتنا ہی