خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 657
خطبات مسرور جلد 13 657 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 نومبر 2015ء ایک شخص کے ذمہ ان کی ایک بڑی رقم قابل ادا تھی۔موصوف بار ہا تقاضا کرنے کے بعد تھک ہار کر اس رقم کی واپسی سے بالکل مایوس ہو چکے تھے۔لیکن ایک دن وہ شخص غیر متوقع طور پر آیا اور معذرت کرتے ہوئے ساری رقم ادا کر دی۔مالی قربانی سے اللہ تعالیٰ ایمان میں کس طرح مضبوطی پیدا فرماتا ہے۔دنیا میں مختلف جگہوں پر اس کے بھی نظارے نظر آتے ہیں۔ازبکستان کے ایک نو مبائع دوست واحد و وچ صاحب ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ میں اتنے لمبے عرصے سے ماسکو میں مقیم ہوں اور ایک معمول کے مطابق مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ اس سال مجھے کتنی آمد ہوگی۔لیکن اس سال جب سے میں نے بیعت کی ہے اور چندہ دینا شروع کیا ہے میری آمدنی میں حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے۔پچھلے تیرہ سال میں مجھے اتنی آمدنی نہیں ہوئی جتنی اس سال میں ہوئی ہے اور اب مجھے اس بات کا کامل یقین ہو گیا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی ہی برکت ہے۔بورکینا فاسو کے کا یا ریجن کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک گاؤں تا پگو (Tapgo) کی جماعت کے ایک ممبر ایک دن وہاں کے معلم صاحب کے پاس آئے اور کہا کہ وہ حج کرنے کی خواہش رکھتے ہیں مگر ان کے پاس ابھی وسائل نہیں ہیں۔اس پر معلم صاحب نے انہیں کہا کہ آپ اپنے چندے میں باقاعدہ ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ آپ کے مالی حالات خود ہی ٹھیک کر دے گا اور حج پر جانے کے سامان بھی پیدا کر دے گا۔اس کے بعد انہوں نے اپنا چندہ با قاعدہ ادا کرنا شروع کر دیا۔کچھ عرصہ کے بعد آ کر انہوں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری خواہش پوری کر دی ہے اور حج پر جانے کے لئے انتظام ہو گیا ہے۔انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ یہ سب چندے کی برکت سے ہوا ہے۔اب وہ حج کر کے واپس بھی آچکے ہیں اور اپنے چندے میں باقاعدہ ہیں۔بور کینا فاسو کی ایک جماعت کے صدر صاحب نے بتایا کہ ایک شخص کے گھر میں بہت مالی تنگی تھی۔ایک پراجیکٹ بھی شروع کرنا چاہا مگر پیسوں کی کمی کے باعث مکمل نہ ہو سکا۔انہی دنوں جلسہ سالانہ بورکینا فاسو جانے کا اتفاق ہوا۔وہاں پر مالی قربانی کے بارے میں سن کر ارادہ کیا کہ گھر پہنچ کر ضرور چندوں میں شامل ہوں گا۔جو بقایا جات ہیں وہ بھی ادا کروں گا۔چنانچہ واپس آتے ہی سب سے پہلے اپنا بقایا چندہ ادا کیا اور آئندہ سے چندہ وقت پر ادا کرنے کا وعدہ بھی کیا۔یہ کہتے ہیں کہ اس پر ابھی ایک ماہ بھی پورا نہ گزرا تھا کہ تمام گھر یلو پریشانیاں حل ہونی شروع ہو گئیں اور پراجیکٹ بھی خدا کے فضل سے مکمل ہو گیا اور یہ تمام