خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 642 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 642

خطبات مسرور جلد 13 642 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30اکتوبر 2015ء مسلمان ہو جائے۔آپ نے فرمایا تم اسے میرے پاس بھیجا کرو کہ وہ خدا تعالیٰ کی باتیں سنا کرے۔وہ بیمار تھا اور حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس علاج کے لئے آیا ہوا تھا۔کیونکہ وہ قادیان میں تھا تو آپ نے فرمایا کہ ٹھیک ہے علاج کروا رہا ہے۔اس کو میرے پاس بھی بھیج دیا کرو۔آپ فرماتے ہیں اس لڑکے کوسل کی بیماری تھی (یعنی ٹی بی کی بیماری تھی۔چنانچہ جب وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس آتا تو اسے نصیحت کرتے رہے اور اسلام کی باتیں سمجھاتے رہے لیکن عیسائیت اس کے اندر اتنی راسخ ہو چکی تھی کہ جب آپ کی باتوں کا اثر اس کے دل پر ہونے لگا تو اس نے خیال کیا کہ میں کہیں مسلمان ہی نہ ہو جاؤں۔چنانچہ ایک رات وہ اپنی ماں کو غافل پا کر بٹالہ کی طرف بھاگ گیا۔رات کو گھر سے، قادیان سے دوڑ گیا۔اور بٹالہ میں جہاں عیسائیوں کا مشن تھا وہاں چلا گیا۔جب اس کی ماں کو پتا لگا تو وہ راتوں رات بٹالہ پیدل گئی اور اسے پکڑ کر پھر قادیان واپس لے آئی۔حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ وہ عورت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیروں پر گر جاتی تھی اور کہتی تھی مجھے اپنا بیٹا پیارا نہیں مجھے اسلام پیارا ہے۔میرا یہ اکلوتا بیٹا ہے مگر میری خواہش یہ ہے کہ یہ مسلمان ہو جائے پھر بیشک مرجائے۔جو بیماری ہے اس سے اگر نہیں بچتا تو مجھے کوئی افسوس نہیں ہو گا۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے اس عورت کی التجا قبول کر لی اور وہ لڑکا مسلمان ہو گیا اور اسلام لانے کے چند دن بعد ( بیچارہ ) فوت بھی ہو گیا۔(ماخوذ از الفضل 10 فروری 1959 ء صفحہ 3 جلد 13/48 نمبر 35) اس عورت کو بھی یہ پتا تھا کہ اگر دین میں واپس لانے کے لئے کوئی آخری حیلہ، انسانی وسیلہ ہوسکتا ہے تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی ہیں کیونکہ انہی میں اسلام کا حقیقی درد ہے اور وہی حقیقی درد کے ساتھ دوسرے کو پیغام بھی پہنچا سکتے ہیں تبلیغ بھی کر سکتے ہیں، قائل بھی کر سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اصلاح کے طریق کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں۔اب اصلاح میں بھی بعض لوگ بعض دفعہ غلط رنگ میں ایسی بات کہہ دیتے ہیں کہ لوگ بجائے اصلاح کے بگڑ جاتے ہیں۔حضرت مصلح موعود کہتے ہیں حضرت صاحب کی اصلاح کا طرز بڑا لطیف اور عجیب تھا۔ایک شخص آپ کے پاس آیا۔اس کے پاس وسائل کی کمی تھی۔وہ باتوں باتوں میں یہ بیان کرنے لگا کہ اس کمی کی وجہ سے ریلوے ٹکٹ میں اس رعایت کے ساتھ آیا ہوں اور وہ طریقہ شاید کچھ غلط طریقہ تھا۔آپ نے ایک روپیہ اس کو دے دیا ( اس زمانے میں روپے کی بڑی ویلیو تھی) اور مسکراتے ہوئے فرمایا کہ امید ہے جاتے ہوئے ایسا کرنے کی تمہیں ضرورت نہیں