خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 603 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 603

خطبات مسرور جلد 13 603 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اکتوبر 2015ء آپ نے فرمایا کہ کوئی درخت اتنی جلدی پھل نہیں لاتا جس قدر جلدی ہماری جماعت ترقی کر رہی ہے۔یہ خدا کا فعل ہے اور عجیب۔یہ خدا کا نشان اور اعجاز ہے۔“ ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 176) پس ہم تو اس ایمان پر قائم ہیں اور یقیناً ہر احمدی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر سچا ایمان رکھتا ہے اس بات پر قائم ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے صرف 125 سال پہلے ایک چھوٹے سے دور دراز علاقے سے اٹھی ہوئی آواز کو دنیا کے کونے کونے میں نہ صرف پھیلا دیا بلکہ مخلصین کی جماعتیں بھی قائم فرماتا چلا جا رہا ہے جو آپ سے اخلاص و وفا اور ایمان میں بڑھ رہی ہیں تو وہ خدا اپنے فضل سے انشاء اللہ تعالیٰ آپ کی یہ بات بھی پوری فرمائے گا کہ ابتلا دور ہو جائیں گے اور یہ سلسلہ سب پر غالب ہوگا۔آجکل ہم اس دور میں سے گزر رہے ہیں جب یہ سلسلہ دنیا میں پھیل رہا ہے اور یہ تدریجی ترقی دنیا کو اب نظر بھی آ رہی ہے تبھی تو اس جرنلسٹ نے مجھے پوچھا تھا کہ کیا یہ جماعت اب دنیا میں سب سے زیادہ پھیلنے والی جماعت ہے۔اور کئی اور جگہ بھی غیر یہ سوال کرتے ہیں اور اعتراف بھی کرتے ہیں کہ جماعت احمد یہ بڑی تیزی سے ترقی کرنے والی جماعت ہے۔گوابتلا بھی ساتھ ساتھ چل رہے ہیں لیکن اگر دشمن کی نیت اور کوشش کو دیکھیں تو یہ ابتلا کچھ بھی نہیں اور پھر ہر ابتلا چاہے وہ احمدی پر احمدیت کی وجہ سے ذاتی ہو یا بعض جگہ پوری جماعت اس تکلیف میں سے یا ابتلا میں سے گزررہی ہو تو ایسا ہر ابتلا پہلے سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی تائیدات اور جلوے دکھاتا ہے۔ہر احمدی جو پاکستان سے ان مغربی ممالک میں آیا ہے اگر اس کے اندر شکر گزاری کا احساس ہے تو اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ حالات کی وجہ سے اپنے ملک سے ہجرت کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے کس قدر فضل فرمائے اور پھر صرف یہی نہیں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک سے جور پورٹس آتی ہیں جن میں بیعتوں کا ذکر اور بیعت کرنے والوں کے واقعات ہوتے ہیں انہیں پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت کہاں کہاں پہنچی ہوئی ہے اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ تائیدات کے نظارے بھی کیسے کیسے دکھا رہا ہے۔اگر یہ کسی انسان کا کام ہوتا، انسان کی بنائی ہوئی جماعت ہوتی تو جتنی مخالفت جماعت کے قیام سے اور ابتدا سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہوئی ہے اور اب تک ہو رہی ہے اور آپ کے ماننے والوں کے ساتھ بھی ہر دن یہی سلوک دنیا میں مختلف جگہ ہورہا ہے، اس مخالفت کی وجہ سے یہ سلسلہ اب تک