خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 525
خطبات مسرور جلد 13 525 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 اگست 2015ء بازار میں جانے والے پاکستانی مہمانوں کی بھی غیر پاکستانیوں نے شکایت کی ہے کہ وہاں بعض دفعہ اگر کوئی چیز خریدنی ہو اور لائن میں لگنا پڑے تو پاکستانی صبر کا مظاہرہ نہیں کر رہے تھے، اور دھکم پیل کرتے تھے۔ان کو اپنے نمونے دکھانے چاہئیں کیونکہ جلسے کا مقصد تو یہ ہے ہی نہیں۔پہلے دن بھی میں نے کہا تھا کہ صبر اور برداشت کریں اور دوسرے کا حق زیادہ دینے کی کوشش کریں۔ٹرانسپورٹ کے انتظام کی عموماً اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی تعریف کی گئی ہے۔اس سال بعض کارکنوں نے بعض مہمانوں کی شکایت کی ہے۔چاہے وہ چند ایک یا ایک آدھ ہی تھا لیکن غلط اثر ڈالنے والا تھا۔کارکنوں تک ہی رہا تو ٹھیک ہے۔شکر ہے ایسے مہمانوں تک نہیں پہنچا جو ہمیں دیکھ رہے تھے۔کارکنان کی بات ماننا ہر آئے ہوئے مہمان کا فرض ہے چاہے وہ کوئی ہو، کسی عہدیدار کا قریبی ہے یا کوئی بڑا ہے۔کسی خاندان کا ہے چاہے میرا رشتہ دار بھی ہے۔بجائے اس کے کہ آپ بات مانیں اور ماحول کو اچھا بنائیں، بعضوں نے غلط رویے دکھائے جو صحیح نہیں ہیں۔اسی طرح وہ نوجوان جو ڈیوٹی پر تھے اور اس بات پر زیادہ جذباتی ہو گئے کہ اگر یہ ہماری بات نہیں مانتے تو ہم ڈیوٹی نہیں دیتے یہ بھی غلط سوچ ہے۔ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مختلف طبائع ہوتی ہیں۔اس لئے کارکنوں کو بھی صبر اور حوصلہ دکھانا چاہئے اور اگر کوئی غلط چیز دیکھیں تو اپنے بالا افسر کو شکایت کریں پھر وہ آپ ہی سنبھال لیں گے۔بہر حال عمومی طور پر جلسہ سالانہ بہت سے فضلوں کو لانے والا بنا۔اللہ تعالیٰ ہر ایک کو ، ہر اس شخص کو جس نے شمولیت کر کے یاٹی وی کے ذریعہ سے اسے دیکھا اور سنا اپنے اندر تبدیلی لانے والا بنائے اور جو میڈیا کے ذریعہ سے اسلام کا حقیقی پیغام دنیا کو پہنچا ہے اللہ تعالیٰ لوگوں کو عقل اور سمجھ دے کہ وہ اس کو بھی بہتر طور پر سمجھ سکیں اور اس حقیقی پیغام کوقبول کریں۔نماز کے بعد میں ایک جنازہ غائب پڑھاؤں گا جوسیده فریدہ بیگم صاحبہ اہلیہ کرم مرزا رفیق احمد صاحب کا ہے۔آپ مکرم سید جلیل شاہ صاحب کی بیٹی تھیں اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بہو تھیں۔حضرت میر حامد شاہ صاحب کی پوتی اور میر حسام الدین صاحب کی پڑپوتی تھیں۔تین دن پہلے ان کی وفات ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ آپ حضرت سید حبیب اللہ شاہ صاحب کی نواسی تھیں اور حضرت ڈاکٹر عبدالستار شاہ صاحب کی پڑ نواسی۔یعنی حضرت ام ظاہر کی بھتیجی کی بیٹی تھیں۔میر حسام الدین شاہ صاحب کی پڑپوتی تھیں۔میر حسام الدین شاہ صاحب وہ ہیں جن کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے خاص تعلق تھا اور جب شروع میں