خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 523 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 523

خطبات مسرور جلد 13 523 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 اگست 2015ء ایک احمدی خاتون نے گھانا سے لکھا کہ آج اپنے کمرے میں بیٹھ کر ٹی وی پر جلسہ سالانہ کی نشریات دیکھ رہی ہوں اور مجھے لگ رہا ہے جیسے میں بھی جلسے میں شامل ہوں۔میرا دل خوشی سے بھرا ہوا ہے اور آنکھیں آنسوؤں سے تر ہیں۔سیرالیون میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے سیرالیون کے نیشنل ٹی وی SLBC پر جلسہ سالانہ کی 36 گھنٹے لائیو نشریات دکھائی گئیں۔سیرالیون سے بہت سے لوگوں نے فری ٹیلیفون لائن پر بات کر کے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ایک صاحب جبرائیل صاحب کہتے ہیں میں ان تمام لوگوں کا شکر یہ ادا کرنا چاہتا ہوں جن کی کوششوں سے آج ہم یہ جلسہ دیکھ رہے ہیں۔ہمیں ایسا لگ رہا ہے جیسے خلیفہ کے ساتھ یوکے میں بیٹھے ہیں۔یہ احمدی ہیں اور اپنے گھر میں بیٹھے جلسے کی برکات سے مستفیض ہورہے ہیں۔کونگو کنشاسا میں بھی چار بڑے بڑے شہروں میں جلسے کی نشریات دکھائی گئیں۔ان شہروں میں سے دو میں میرا آخری خطاب نشر کیا گیا جبکہ دو شہروں میں جلسے کی تمام کارروائی لائیو نشر کی گئی۔جب آخری خطاب ہو رہا تھا تو کنشا سا میں ہم نے ان سے دو گھنٹے کا وقت لیا تھا۔جب دو گھنٹے ختم ہو گئے تو ابھی میرا خطاب جاری تھا اور ختم نہیں ہوا تھا۔اس پر ٹیلیویژن کے عملے سے درخواست کی گئی کہ کچھ مزید وقت دے دیں تا کہ خطاب مکمل نشر ہو جائے۔انہوں نے کہا ہمارے پروگرام تو پہلے سے ہی شیڈیول ہوتے ہیں اور اس طرح وقت نہیں بڑھایا جا سکتا لیکن چونکہ آپ کے خلیفہ کی تقریر جاری ہے اور اس تقریر کا ہم پر اس قدر اثر ہے کہ ہم آپ کو مزید وقت دے رہے ہیں اس طرح مکمل خطاب کی کوریج دکھائی گئی اور اس کا اچھا فیڈ بیک (Feed back) بھی آنا شروع ہو گیا۔ایک شخص نے فون کر کے بتایا کہ میں مسلمان ہوں لیکن آج تک میں نے ایسی باتیں کسی کے منہ سے نہیں سنیں میں فوراً جماعت احمدیہ میں شامل ہونا چاہتا ہوں۔اور کونگو کے ایک شہر بکانگو میں جی کے وی (GKV) ٹی وی پر جلسہ نشر کیا گیا۔اس ٹی وی کے میر براہ جوس (Jose) صاحب نے کہا کہ میں اس حقیقت کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اسلام کا جو تصور میرے ذہن میں تھا وہ یکسر تبدیل ہو گیا اور مجھے خلیفہ اُسیح کے خطابات سن کر معلوم ہوا کہ اسلام ایک بہت ہی خوبصورت اور دل کو موہ لینے والا مذہب ہے۔کہتے ہیں کہ اکثر گھروں میں ایم ٹی اے کے پروگرام اور خاص طور پہ آخری خطاب چلنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ایک دوست نے کہا کہ ٹی وی پر آپ کا جلسہ دیکھا اور بہت خوشی ہوئی کہ دنیا میں ایک ایسا وجود