خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 419 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 419

خطبات مسرور جلد 13 419 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 جولائی 2015ء اہمیت دیتے ہیں اور اہمیت دے رہے ہوں گے۔دنیا میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب جماعتیں بڑی پھیل چکی ہیں۔مختلف طبقات سے لوگ احمدیت میں شامل ہو رہے ہیں۔ان پہ پرانی تربیت کا اثر بھی ہے اور بعض ایسے بھی ہوں گے جو عموماً سارا سال جمعہ کو اتنی اہمیت نہیں دیتے لیکن رمضان کے آخری جمعہ کو بڑی اہمیت دیتے ہیں اور مسلمانوں میں رائج عام تصور کی وجہ سے سمجھتے ہیں کہ اس جمعہ میں شامل ہونا جو جمعتہ الوداع کے نام سے عام مسلمانوں میں مشہور ہے انہیں گزشتہ سال کی تمام برائیوں اور کمزوریوں سے نجات دلانے والا ہوگا اور تمام سال کی عبادتوں کا حق اب شاید اس جمعہ میں شامل ہونے سے ادا ہو جائے گا۔پس ایسے لوگ چاہے چند ہی ہوں میں انہیں یہ یاد کروانا چاہتا ہوں اور انہیں یا د رکھنا چاہئے کہ اس جمعہ میں شامل ہونے سے ہماری زندگی کے مقصد کا حق ادا نہیں ہو جاتا۔اللہ تعالیٰ کے کلام سے یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے یہ بات ثابت ہے کہ صرف رمضان کا آخری جمعہ پڑھ لینا نجات کا ذریعہ نہیں بن جاتا۔اس لئے اگر انسان نجات حاصل کرنا چاہتا ہے تو صرف اسی میں شامل ہو جائے تو انسان کی دنیا وعاقبت سنور جاتی ہے، یہ کہیں ثابت نہیں ہوتا۔پس ہمارے نوجوانوں کو بھی اور ہم میں سے جمعہ کی ادائیگی کے بارے میں سستی کرنے والوں کو بھی یہ یا درکھنا چاہئے کہ غیر احمدیوں میں اگر جمعتہ الوداع کا کوئی تصور ہو تو ہو، جماعت احمدیہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے مطابق جمعتہ الوداع کا نہ کوئی تصور ہے، نہ کوئی ہونا چاہئے۔ہاں اگر آج جمعہ میں اہتمام سے شامل ہونے والے کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے یا یہ خیال آ جاتا ہے کہ آج سے میں عہد کرتا ہوں کہ اپنی کمزوری کو دور کروں گا جو جمعوں میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے مجھے سے ہوتی رہی اور آئندہ ہمیشہ جمعوں پر خاص اہتمام سے شامل ہوں گا تو پھر یقیناً اس جمعہ کی اہمیت ہے بلکہ اس دن کی اہمیت ہے اور صرف جمعہ ہی اس کے لئے بابرکت نہیں بلکہ اس پاک تبدیلی کی وجہ سے ایسے شخص کے لئے یہ لحہ جس میں اس کے اندر پاک تبدیلی پیدا ہوئی اور اس کا خیال آیا اور اس خیال نے ایک پکا ارادہ دل میں پیدا کر دیا کہ میں اللہ تعالیٰ کے احکامات کو اب اہمیت دوں گا، ان پر قائم رہوں گا تو پھر اس کے لئے یہ دن اور یہ لمحہ لیلۃ القدر بن جائے گا۔ایک اندھیری رات کے بعد اس میں روحانی روشنی کے سامان پیدا ہو جائیں گے۔اور جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبہ میں بھی کہا تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ انسان کے لئے ایک لیلتہ القدر اس کا وقت اصفی بھی ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 2 صفحه (336) یعنی جب وہ اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے، اس کے