خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 340 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 340

خطبات مسرور جلد 13 340 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 مئی 2015 ء میں ایک یوم خلافت منا کر ہم نے فرض ادا کر دیا۔میں نے پہلے بھی ایک دفعہ بتایا تھا حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے کہ جتنا زور جماعت کو خلافت سے تعلق کے بارے میں دیا جانا چاہئے اتنا نہیں دیا جاتا۔اب میرے کہنے پر بعد میں جلسوں میں تقاریر تو شروع ہوگئی ہیں لیکن اس بات کو راسخ کرنے کی بہت ضرورت ہے کہ خلیفہ وقت کی باتوں کو سنو اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کرو۔اپنا خلافت سے تعلق بڑھاؤ۔جولوگ اس بات کو سمجھتے ہیں وہ اپنی حالتوں میں بھی غیر معمولی تبدیلی محسوس کرتے ہیں۔گزشتہ دنوں کینیڈا سے تقریباً سو سے اوپر خدام اور امریکہ سے دوسو سے او پر خدام مختلف عمروں کے مجھے لندن ملنے کے لئے آئے۔ان میں نئے بیعت کرنے والے بھی شامل تھے۔تین دن رہے ہیں۔اس کے بعد ان کے تاثرات بالکل مختلف تھے۔عجیب اخلاص اور وفا کا اظہار ان سے ہو رہا تھا جس کو دیکھ اور سن کر حیرت ہوتی ہے اور بعد میں جا کر بھی انہوں نے ان باتوں کا اظہار کیا اور اپنی ان حالتوں کی تبدیلی کا اظہار کیا۔یہ عہد کیا کہ ہم نمازوں میں باقاعدگی رکھیں گے۔یہ عہد کیا کہ جماعت کے ساتھ وابستگی میں با قاعدگی رکھیں گے۔یہ عہد کیا کہ خلافت سے اپنے تعلق کو بڑھاتے چلے جائیں گے۔اس سے پہلے نہ ان کو خلافت کے تعلق کے بارے میں اتنا بتایا گیا تھا، نہ ان کو تجربہ تھا۔بیشک ذاتی ملاقات سے دونوں طرف سے ایک تعلق اور محبت کا خاص رنگ پیدا ہوتا ہے لیکن مختلف واقعات کے ذریعہ علماء اور عہد یدار خلافت کی اہمیت کو جماعت میں وقتاً فوقتاً بیان کرتے رہیں تو ایمانوں میں مضبوطی اور مزید جلا ء پیدا ہوتی ہے۔عہد یدار خلافت کے نمائندے کے نام پر اپنی اہمیت تو واضح کرنا چاہتے ہیں۔جہاں کہیں عہد یدار کھڑا ہو گا ہ کہے گا میں خلافت کا نمائندہ ہوں اور ان عہد یداروں میں مرد بھی شامل ہیں اور لجنہ کی صدرات بھی شامل ہیں اور عہدیدار بھی شامل ہیں لیکن خلافت سے تعلق کو اس طرح انہوں نے ذہنوں میں نہیں ڈالا جس طرح ڈالنا چاہئے۔اگر یہ عہدیدار خلافت کی اہمیت اور تعلق کو مضبوط کرنے کی کوشش کریں گے تو ان عہد یداروں کی اہمیت خود بخود بڑھ جائے گی۔پس یہ علماء کی ذمہ داری ہے۔اس میں سب لوگ شامل ہیں چاہے وہ مربیان ہیں، عہدیداران ہیں یا دین کا علم رکھنے والے ہیں کہ خلیفہ وقت کا دست و بازو بنیں۔اپنے عمل کو بھی خلیفہ وقت کے تابع کریں اور دوسروں کو بھی نصیحت کریں۔یہ تصور غلط ہے کہ ایک دفعہ کہہ دیا تو بات ختم ہوگئی۔یہ نصیحت اور تعلق کے اظہار کا بار بار ذکر ہونا چاہئے۔وہ ایک خطبہ میں اس سلسلہ میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مربیان اور علماء کو ایک بڑی اہم نصیحت فرمائی تھی۔انہوں نے فرمایا کہ ہر مومن جو دین کا درد اور سلسلہ سے اخلاص رکھتا ہے اور جو چاہتا ہے