خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 338 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 338

خطبات مسرور جلد 13 338 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 مئی 2015ء اٹھانا ہے تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کریں۔پانچ وقت اپنی نمازوں کی حفاظت کریں اور احسن رنگ میں ادائیگی کی طرف توجہ دیں۔پھر فرمایا لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا۔کسی چیز کو میر اشریک نہیں بنائیں گے۔پس اس دنیا میں جہاں انسان کی مختلف ترجیحات ہیں اور خاص طور پر ان ترقی یافتہ ممالک میں جہاں مادیت کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ان مادیت کی چیزوں کو بعض لوگوں نے خدا تعالیٰ کے احکامات پر ترجیح دینی شروع کر دی ہے یا دیتے ہیں۔دنیاوی فائدہ کے اٹھانے کے لئے غلط بیانی اور جھوٹ سے بھی کام لیتے ہیں۔یہ بھی ایک قسم کا شرک ہے۔پس ایسے لوگ خلافت سے صحیح فیضیاب نہیں ہو سکتے۔یہاں جرمنی سے مجھے کسی نے خط لکھا کہ ان کا ایک زیر تبلیغ دوست تھا وہ سب مسائل اور صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا قائل ہو گیا۔جب اس شخص نے اپنے دوست کو یہ کہا کہ پھر بیعت کر کے جماعت میں آجاؤ تو کہنے لگا کہ میں بہت سے احمدیوں کو جانتا ہوں بعض میرے ارد گرد جو میرے قریبی ہیں جو ٹیکس چوری بھی کرتے ہیں۔جو جھوٹ سے بھی کام لیتے ہیں، جو اور بھی غلط کاموں میں ملوث ہیں۔تو میں تو بہر حال یہ سب غلط کام نہیں کرتا۔میں ٹیکس بھی پورا ادا کرتا ہوں۔اگر ٹیکسی چلاتا ہوں تو اس کے بھی پیسے پورے دیتا ہوں تو پھر میں کس طرح ان میں آجاؤں۔اس لئے ان سے بہتر ہوں باوجود اس کے کہ باقی تمہارے عقائد مان لیتا ہوں۔گو اس کا یہ جواب غلط ہے۔اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکم کو نہ مان کر وہ خود ملزم بن گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے تو اسے یہی کہنا ہے کہ تمہارے سامنے جو حقیقت آگئی تو تم نے چند لوگوں کو دیکھ کر اس کا انکار کیوں کیا۔تمہیں جو میر احکم تھا تم نے وہ کیوں نہ مانا۔لیکن ایسے احمدی اپنے غلط رویوں سے دو ہرے گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔خود بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے محروم رہیں گے اور ہور ہے ہیں اور دوسروں کو بھی دُور ہٹا رہے ہیں اور ایسے لوگوں کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ یہ لوگ ہماری طرف منسوب ہو کر ہمیں بدنام کرنے والے ہیں۔خدمت دین بھی صرف خلافت سے وابستگی میں ہے پس جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نام کو بدنام کرنے والے ہیں تو انہوں نے پھر آپ کی جاری خلافت کے فیض سے کیا حصہ لینا ہے۔پس ایسے لوگوں کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔اسی طرح کام کرنے والوں اور عہدیداروں سے بھی میں یہی کہتا ہوں کہ یہ برکت جو آپ کے کام میں ہے یا جو آپ کو اللہ تعالیٰ کام کی توفیق دے رہا ہے یہ صرف اور صرف خلافت سے وابستگی میں ہے۔اس سے علیحدہ ہو کر کوئی ایک کوڑی کا بھی کام نہیں کر سکتا۔اگر کوئی بعض کاموں کے اچھے نتائج کو دنیاوی علم