خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 329 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 329

خطبات مسرور جلد 13 329 22 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 مئی 2015 ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 29 رمئی 2015 ء بمطابق 29 ہجرت 1394 ہجری شمسی بمقام فرینکفرٹ جرمنی تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ فرمایا کہ تم میں نبوت قائم رہے گی اس وقت تک جب تک اللہ تعالیٰ چاہے۔پھر اس کے بعد خلافت علی منہاج نبوت قائم ہوگی۔وہ خلافت قائم ہوگی جو نبی کے طریق پر چلنے والی ہوگی۔اس کے ذاتی مفادات نہیں ہوں گے۔وہ نبی کے کام کو آگے بڑھانے والی ہوگی۔لیکن ایک عرصے کے بعد یہ خلافت جو راشد خلافت ہے ختم ہو جائے گی۔یہ نعمت تم سے چھینی جائے گی۔پھر ایسی بادشاہت قائم ہو جائے گی جس سے لوگ تنگی محسوس کریں گے۔پھر اس سے بھی بڑھ کر جابر بادشاہت ہو گی۔پھر اللہ تعالیٰ کا رحم جوش میں آئے گا اور پھر خلافت علی منہاج نبوت قائم ہوگی۔(مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحه 285 مسند النعمان بن بشیر حدیث: 18596 عالم الكتب بيروت 1998ء) ہم دیکھتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ اسلام کی تاریخ میں مختلف ادوار میں آنے والے مسلمان سر براہان حکومت اپنے آپ کو خلفاء کہلاتے رہے۔یہ بتاتے رہے کہ ان کا مقام خلیفہ کا مقام ہے لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کی اکثریت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے جو پہلے چار خلفاء ہیں ان کو ہی خلفائے راشدین کا مقام دیتی ہے۔انہی کا دور خلافت راشدہ کا دور کہلاتا ہے۔یعنی وہ دور جو ہدایت یافتہ اور ہدایت پھیلانے والا دور تھا جو اپنے نظام کو اس طرح چلاتے رہے جس طرح انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چلاتے دیکھا۔قرآنی تعلیمات کے مطابق اس نظام کو چلایا۔خاندانی بادشاہت نہیں رہی بلکہ مومنین کی جماعت کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے خلافت کی رداء انہیں پہنائی۔لیکن ان کے علاوہ باقی خلفاء خاندانی بادشاہت کو ہی قائم رکھتے رہے اور حرف بہ حرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم