خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 123
خطبات مسرور جلد 13 123 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 فروری 2015ء پیشگوئیوں کا مورد بنایا ہے جو ایک آنے والے موعود کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائیں۔جو شخص سمجھتا ہے کہ میں نے افتراء سے کام لیا ہے یا اس بارے میں جھوٹ اور کذب بیانی کا ارتکاب کیا ہے وہ آئے اور اس معاملے میں میرے ساتھ مباہلہ کرلے اور یا پھر اللہ تعالیٰ کی مؤکد بعذاب قسم کھا کر اعلان کر دے کہ اسے خدا نے کہا ہے کہ میں جھوٹ سے کام لے رہا ہوں۔پھر اللہ تعالیٰ خود بخود اپنے آسمانی نشانات سے فیصلہ فرمادے گا کہ کون کاذب ہے اور کون صادق۔(ماخوذ از الموعود۔انوار العلوم جلد 17 صفحہ 645) پیشگوئی مصلح موعود کے کچھ حصے پھر پیشگوئی کے جو بعض حصے تھے ان میں سے کچھ حصے بیان کرتا ہوں۔مثلاً پیشگوئی کا ایک حصہ یہ ہے کہ وہ علوم ظاہری سے پر کیا جائے گا۔علوم ظاہری کا ایک حصہ حضرت مصلح موعود نے لیا ہے۔ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ اس پیشگوئی کا مفہوم یہ ہے کہ وہ علوم ظاہری سیکھے گا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اسے یہ علوم سکھائے جائیں گے۔یہ امر یا درکھنا چاہئے کہ یہاں یہ نہیں کہا گیا کہ وہ علوم ظاہری میں خوب مہارت رکھتا ہوگا بلکہ الفاظ یہ ہیں کہ وہ علوم ظاہری سے پر کیا جائے گا۔جس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی اور طاقت اسے یہ علوم ظاہری سکھائے گی اس کی اپنی کوشش اور محنت اور جدو جہد کا اس میں دخل نہیں ہوگا۔یہاں علوم ظاہری سے مراد حساب اور سائنس وغیرہ علوم نہیں ہو سکتے کیونکہ یہاں پر کیا جائے گا کے الفاظ ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اسے یہ علوم سکھائے جائیں گے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے سائنس اور حساب اور جغرافیہ وغیرہ علوم نہیں سکھائے جاتے بلکہ دین اور قرآن سکھایا جاتا ہے۔پس پیشگوئیوں کے ان الفاظ کا کہ وہ علوم ظاہری سے پر کیا جائے گا یہ مطلب ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے علوم دینیہ اور قرآنیہ سکھلائے جائیں گے اور خدا خود اس کا معلم ہوگا۔فرمایا میری تعلیم جس رنگ میں ہوئی ہے وہ اپنی ذات میں ظاہر کرتی ہے کہ انسانی ہاتھ میری تعلیم میں نہیں تھا۔میرے اساتذہ میں سے بعض زندہ ہیں اور بعض فوت ہو چکے ہیں۔میری تعلیم کے سلسلے میں مجھ پر سب سے زیادہ احسان حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کا ہے۔(ماخوذ از الموعود۔انوار العلوم جلد 17 صفحہ 565-566) پھر آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتے کے ذریعے مجھے قرآن کریم کا علم طافرمایا ہے اور میرے اندر اس نے ایسا ملکہ پیدا کر دیا ہے۔جس طرح کسی کو خزانے کی کنجی مل جاتی ہے اسی طرح مجھے قرآن کریم کے علوم کی کنجی مل چکی ہے۔دنیا کا کوئی عالم نہیں جو میرے سامنے آئے اور میں قرآن کریم کی