خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 108 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 108

خطبات مسرور جلد 13 108 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 فروری 2015ء اوّل سے آخر تک انسانوں کی ہدایت کا موجب ہے۔پس ان باتوں سے بظاہر تو یہ لگتا ہے کہ قرآن کریم کی خوبی کو عیب بتایا جارہا ہے۔کیونکہ اس کے باوجود مسلمانوں میں غلط اثر قائم ہوا۔مگر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ دراصل یہ ہے تو خوبی مگر اس کو غلط طور پر سمجھنے کی وجہ سے مسلمانوں میں بہت بڑا عیب پیدا ہو گیا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن کریم مکمل کتاب ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ قیامت تک کے لئے ہدایات نامہ ہے جس میں تمام اعلیٰ تعلیمیں جمع کر دی گئی ہیں مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ جو انسانی دماغ کا خالق ہے وہ یہ بھی جانتا تھا کہ دماغ کی یہ خاصیت ہے کہ اگر اسے سوچنے کی عادت نہ ڈالی جائے تو یہ مردہ ہو جاتا ہے اور اس میں ترقی کرنے والی کیفیت باقی نہیں رہتی۔اس لئے گو قرآن کو اس نے کامل بنایا مگر ہر حکم جو اس نے دیا اس کا ایک حصہ انسان کے دماغ کے لئے چھوڑ دیا۔کچھ اصول بنائے جو واضح اور ظاہری ہیں اور کچھ ایسی باتیں ہیں جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے تا کہ انسان خود تلاش کرے تا کہ انسان کا دماغ ناکارہ نہ ہو جائے۔اس لئے قرآن کریم ایسے الفاظ اور عبارت میں نازل کیا گیا ہے کہ ان پر غور کر کے معارف پر اطلاع ہوتی ہے، اس کی گہرائی کا پتا چلتا ہے ورنہ اگر سب کو یکساں فائدہ پہنچانا مدنظر ہوتا تو قرآن کریم میں یہ مضمون ایسا کھلا کھلا ہوتا کہ ہر شخص خواہ غور کرتا یانہ کر تا ان مضامین سے آگاہ ہو جاتا۔اس سے الہی منشاء یہی ہے کہ انسانی دماغ معطل اور بیکار نہ ہواور اس کے نہ سوچنے کی وجہ سے نشوونما رک نہ جائے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 13 صفحه 80) لیکن یہ بھی واضح ہو کہ اس کے کچھ اصول و ضوابط ہیں جیسا کہ پہلے بھی میں نے کہا ہے اور اس زمانے میں ان کی رہنمائی کے لئے ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بہت سے اصول بتا دیئے ہیں، خود واضح تفسیر کر کے بتادی ہے جن کو ہمیں سامنے رکھنا چاہئے اور اس کے مطابق قرآن کریم میں سے نئے نئے نکات تلاش کرنے چاہئیں۔دوسرے مسلمانوں کی طرح اگر صرف پرانی تفسیروں سے ہم چھٹے رہیں تو وہ معارف اور راستے بھی نہیں کھلیں گے جن کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رہنمائی فرمائی ہے۔آجکل تو غیر احمد یوں میں بھی جو مفتر بنتے ہیں، بڑے ڈاکٹر ہیں، علماء ہیں وہ بھی جماعتی لٹریچر اور تفسیریں پڑھ کر اپنے درس دیتے ہیں بلکہ بعض ایسے بھی علماء ہیں جو تفسیر کبیر پڑھ رہے ہوتے ہیں۔بہر حال قرآن کریم ایک کامل اور مکمل کتاب ہے۔اس میں کوئی شک نہیں اس میں سب کچھ ہے۔لیکن اس کو پڑھ کر غور کرنے والے اور اس کی تعلیم کے مطابق عمل کرنے والے کو ہی ہدایت نصیب ہوتی ہے۔صرف ایک بات کو لے کر کہہ دینا کہ ہدایت مل گئی یہ کافی نہیں ہے بلکہ ہر بات پر عمل کرنا ضروری ہے۔اس سے قومی اور فردی برائیوں اور خوبیوں کا پتا چلتا ہے۔اس کتاب میں اللہ تعالیٰ نے آخرین